تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 166

ارواح چھا جاتی ہیں اور وہ ناراض یا خوش ہوتی ہیں۔اگر کسی شخص نے کوئی ایسا کام کیا جس کا نتیجہ خراب نکل آیا تو اُس نے خیال کر لیا کہ چاند پر چھائی ہوئی ارواح کو یہ بات پسند نہیں آئی۔اور اگر کسی نے کوئی کام کیا اور اُس کا اچھا نتیجہ نکل آیا تو اُس نے یہ سمجھ لیا کہ سورج کی روح کے نزدیک یہ کام اچھا ہے۔مگر آدم ؑ کیسا مطمٔن تھا اور کس بشاشتِ قلب سے بیٹھا تھا کیونکہ اُسے خدا تعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ یہ سب چیزیں خدا نے اس کے لئے مسخر کر دی ہیں۔اور اس کی خدمت پر لگی ہوئی ہیں۔اسی لئے اُسے سورج اور چاند کی ناراضگی یا خوشنودی کے سامانوں کی تلاش میں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔موحد اور خدا رسیدہ آدم ان سب پریشانیوں سے محفوظ تھا۔اور خدا تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتا تھا۔اگر تجسّس صرف اس حد تک ہو کہ سورج ایک مادی چیز ہے اُس کی شعاعوں میں اللہ تعالیٰ نے کیا کیا فائدے رکھے ہیں۔تو یہ ایک سائینس کی تحقیقات ہوگی۔اس میں گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں لیکن اگر وہ ان چیزوں کو ہی خدا کا مرتبہ دے دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ان کا تعلق اس کی زندگی اور موت سے ہے او ر یہ اس کے اور اس کے بیوی بچوں کے آرام و راحت پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں تو اُسے دن رات ایک خلش رہےگی کہ معلوم نہیں یہ چیزیں مجھے کیا نقصان پہنچائیں۔اور اگر نقصان پہنچادیں تو معلوم نہیں میں اُس کا کس طرح ازالہ کروں۔غرض مشرک کی ساری زندگی ایک ذہنی پریشانی اور گھبراہٹ کی تصویر ہوتی ہے۔اور وہ حیران ہوتا ہے کہ میں اپنے مصائب کا کیا علاج کروں ؟ وہ کبھی ایک بُت کے آگے جھکتا ہے اور کبھی دوسرے کے آگے۔کبھی اس کی ناراضگی کا اُسے خو ف آتا ہے اور کبھی اُس کی خفگی کا۔کبھی ستاروں سے ڈرتا ہے اور کبھی سورج اور چاند سے لرزتا ہے اور کبھی پتھر کے بے جان بتوں سے اُس کا خون خشک ہوتا ہے۔غرض زندگی کے کسی مرحلے میں بھی اُسے اطمینان نصیب نہیں ہوتا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ۔اگر تم ذہنی کشمکش اور پریشانیوں سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہوتو بُت پرستی کے شرک سے بچو اور کامل موحد بن جائو پھر تمہیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔اور تمہیں دکھائی دےگا کہ ساری دُنیا تمہاری خدمت میں لگی ہوئی ہے۔پھر فرماتا ہے کہ ہم تمہیں دوسری نصیحت یہ کرتے ہیں کہ تم جھوٹ سے بچو۔کیونکہ یہ بھی روحانیت کو تباہ کر دینے وا لا مرض ہے اور پھرشرک اپنی ذات میں سب سے بڑا جھوٹ ہے کیونکہ جو طاقتیں خدا تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیں اُن کے متعلق ایک مشرک کہتا ہے کہ فلاں فلاں چیزمیں ہیں اور اس طرح جھوٹ کی نجاست پر مُنہ مارتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کی جماعتوں کی علامتوں میں سے ایک بڑی بھاری علامت راستبازی ہوتی ہے۔اور یہ علامت ایسی ہے جو اپنی ذات میں بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔مگر افسوس ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ راستبازی کی قدرو قیمت کو