تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 168

جانے دو۔جب اُس نے پیچھے تمہارے ساتھ کوئی عہد شکنی نہیں کی تو یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ آئندہ بھی نہیں کرے گا (بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ ؐ)۔تو شدید سے شدید دشمن کو بھی جو آپ سے لڑائی کر رہا تھا یہ جرأت نہیں تھی کہ وہ آپ کے متعلق یہ کہے کہ آپ نے کبھی جھوٹ بولا ہے یا کوئی معاہدہ شکنی کی ہے۔یہی وہ چیز تھی جس کی وجہ سے مسلمان جب کسی ملک میں جاتے تو وہاں کے باشندے اُن کے اعلیٰ اخلاق کو دیکھ کر اُن کے اس قدر گرویدہ ہو جاتے کہ وہ اپنے ہم قوم اور اپنے ہم مذہب افراد سے بھی اُن کی زیادہ عزت کرتے اور اُن کی سلامتی کی دُعائیں کرتے۔چنانچہ تاریخ میں لکھا ہے کہ مسلمانوں نے جب حمص پر قبضہ کر لیا جو رومیوں کے علاقہ میں تھا۔تو کچھ عرصہ کے بعد مسلمانوں کو دوبارہ دشمن کے حملہ کا خطرہ پیدا ہوگیا۔اور انہوں نے مناسب سمجھا کہ اس وقت حمص کو خالی کر دیا جائے اس فیصلہ کے بعد مسلمانوں نے وہاں کے عیسائیوں کو بُلایا اور اُن سے کہا کہ ہم تم سے جزیہ وصول کر چکے ہیں مگر یہ جزیہ اس شرط کے ماتحت لیا گیا تھا کہ ہم تمہارے جان و مال کی حفاظت کریں گے۔اب چونکہ خود ہمارے لئے ایک نازک صورتِ حالات پیدا ہوگئی ہے اور ہم تمہاری حفاظت نہیں کر سکتے اس لئے ہم جزیہ کی رقم تمہیں واپس کر تے ہیں۔چنانچہ کئی لاکھ روپیہ جو عیسائیوں سے جزیہ کے طور پر لیا گیا تھا انہیں واپس کر دیا گیا۔اس اعلیٰ درجہ کے نمونہ کا اُن عیسائیوں پر اتنا اثر ہوا کہ جب اسلامی لشکر روانہ ہوا تو وہ ساتھ ساتھ روتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے کہ خدا تم کو دوبارہ ہم میں واپس لائے اور یہودی بھی بڑے جوش سے یہ کہتے جاتے تھے کہ توراۃ کی قسم جب تک ہم زندہ ہیں قیصر حمص پر قبضہ نہیں کر سکتا۔( فتوح البلدان بلازری امر حمص و یو م الیرموک) غرض سچائی ایسی چیز ہے کہ اس کے بغیر کسی قوم کا رعب قائم نہیں ہو سکتا۔جو لوگ سچائی اور دیانت کا نمونہ دکھاتے ہیں وہ اپنی قوم کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔اور جو لوگ یہ نمونہ نہیں دکھاتے وہ اپنی قوم کا گلا کاٹنے والے ہوتے ہیں۔فرماتا ہے توحید کے مقابلہ میں شرک کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی شخص بلندی سے گِر جائے اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور ہوا اس کے ٹکڑوں کو دُور دُور پھینک دے کیونکہ مشرک اپنے کئی آقا تجویز کرتا ہے اور ہر آقا کو اس کے گوشت پر حق ہے۔اس جگہ یاد رکھنا چاہیے کہ شرک کا مسئلہ ایسا سیدھا سادہ نہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے بلکہ نہایت باریک مسئلہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اکثر قومیں جو بظاہر شرک کی مخالف ہیں عملاً شرک میں مبتلا پائی جاتی ہیں اور اس کا سبب