تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 165

کر بھی نہیں پہنچ سکتا ایک چھوٹی سی ٹکیہ نمودار ہو کر ساری دنیا کو روشن کرد یتی ہے۔اور رات کے وقت ایک چھوٹی سی سفید تھالی ظاہر ہو کر سارے عالم کو چاندنی سے بھر دیتی ہے۔ہزاروں ہزار ٹمٹمانے والے ستارے جَوّ میں پھیل جاتے ہیں اور چمک چمک کر اُس کی آنکھوں کو خیرہ کر تے ہیں اور اس کی نظر کے لئے ایک دلفریب نظارہ پیدا کرتے ہیں۔اور جب دن آتا ہے تو غائب ہو جاتے ہیں۔یہ چیزیں اُسے ورطۂ حیرت میں ڈالنے والی تھیں اور یقیناً اُسے ہمیشہ حیرت میں مبتلا رکھتیں اگر خدا تعالیٰ کا ہاتھ ابتداء میں ہی اُسے پکڑ کر سیدھا راستہ نہ دکھا دیتا۔ہم دیکھتے ہیں گھر میں کوئی معمولی ساکھٹکا بھی ہوتا ہے تو گھر والے اُٹھ کر تجسّس شروع کر دیتے ہیں۔کوئی کہتا ہے چھپکلی ہو گی کوئی کہتا ہے چوہا ہوگا۔کوئی کہتا ہے چور ہوگا۔گویا ایک معمولی ساکھٹکا چھپکلی اور چوہے سے لےکر چور تک پہنچا دیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح ؑنے بھی انجیل میں پیشگوئی کی ہے کہ آنےوالا مسیح چوروں کی طرح آئےگا۔چنانچہ انہوں نے اپنے حواریوں سے کہا کہ ’’ جاگتے رہو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہارا خداوند کس دن آئےگا۔لیکن یہ جان رکھو کہ اگر گھر کے مالک کو معلوم ہوتا کہ چور رات کے کونسے پہر آئےگا تو جاگتارہتا اور اپنے گھر میں نقب نہ لگا نے دیتا۔اس لئے تم بھی تیار رہوکیونکہ جس گھڑی تم کو گمان بھی نہ ہوگا ابن آدم آجائے گا۔‘‘(متی باب ۲۴آیت۴۳،۴۴)اس پیشگوئی میں اس طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ اُس کے آنے سے ایک کھٹکا پیدا ہوگا جس کی وجہ سے لوگ اُسے چور بنائیں گے لیکن ہوگا وہ خدا کا راستباز نبی۔غرض ایک معمولی ساکھٹکا بھی جب انسان کو پریشان کر دیتا ہے تو ظاہر ہے کہ ایسے نظارے اُسے کس قدر حیران کر سکتے ہیں مگر جونہی کہ انسانیت سنِ شعور کو پہنچی اللہ تعالیٰ نے اُس کے کان میں یہ آواز ڈال دی کہ میں تیرا اللہ تعالیٰ ہوں اور جو کچھ تجھے نظر آتا ہے یہ سب میری مخلوق ہے جس طرح کہ تو مخلوق ہے اور تو ایک دن مر کر میرے سامنے آنے والا ہے اور یہ سب چیزیں جو تجھے نظر آتی ہیں خواہ قریب ہوں یا بعید میں نے تیرے فائدہ اور تیری خدمت کے لئے پیدا کی ہیں اور سب تجھے نفع پہنچانے کے کاموں پر لگی ہوئی ہیں۔اس آواز نے اسے کتنی پریشانیوں سے بچا لیا۔اگر پہلا انسان یعنی آدم اپنے سنِ شعور کو پہنچنے کے بعد اس آواز کو نہ سُنتا تو اُس کے لئے کس قدر مصیبت ہوتی اور وہ کتنی پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتا۔دن چڑھتا تو اُس کے لئے ایک تکلیف کاآغاز ہوجاتا کہ سورج کی کنہ معلو م کرے۔اور رات ہوتی تو ایک اور پریشانی کا دروازہ کھل جاتا کہ چاند کی حقیقت معلوم کرے۔اور پھر یہ پتہ لگا ئے کہ ان چیزوں کا اس سے کیا تعلق ہے اور یہ اُسے نفع یا نقصان پہنچا سکتی ہیں یا نہیں ؟ اور اس سے خوش ہو سکتی ہیں یا نہیں؟ ہم دیکھتے ہیں کہ جنہوں نے اس آواز سے فائدہ نہیں اُٹھایا وہ اب تک انہیں چکروں میں پڑے ہوئے ہیں۔چنانچہ تمام بُت پرست قومیں انہی الجھنوں میں مبتلا ہیں۔کوئی کہتی ہے کہ چاند اور سورج پر