تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 158

میں جب تعلیم کے لئے مصر گیا تو ارادہ تھا کہ حج بھی کرتا آئوںگا۔مگر یہ پختہ ارادہ نہ تھا کہ اُسی سال حج کروںگا۔یہ بھی خیال آتا تھا کہ واپسی پر حج کرلوںگا۔جب میں بمبئی پہنچا تو وہاں نانا جان صاحب ؓ مرحوم بھی آملے۔وہ براہ راست حج کو جارہے تھے۔اس پر میرا بھی ارادہ پختہ ہو گیا کہ اسی سال ان کے ساتھ حج کر لوں۔جب پورٹ سعید پہنچے تو میں نے رئویا میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر حج کی نیت ہے تو کل ہی جہاز میں سوار ہو جائو کیونکہ یہ آخری جہاز ہے گو حج میں ابھی دس پندرہ روز کا وقفہ تھا مگر فاصلہ بھی وہاں سے قریب ہے۔اس لئے خیال کیا جاتا تھا کہ ابھی اور کئی جہاز حاجیوں کے مصر سے جدہ جائیں گے۔میرے ساتھ عبدالحی صاحب عرب بھی تھے وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ اگلے جہاز پر چلے جائیں گے۔مگر مجھےچونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اگر نیت ہے تو اسی جہاز سے جائو ورنہ جہازوں میں روک پیدا ہو جائے گی۔اس لئے میں نے چلنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔وہاں جو ایک دو۲ اصحاب واقف ہوئے تھے وہ بھی کہنے لگے کہ ابھی تو کئی جہاز جائیں گے۔قاہرہ اور اسکندریہ وغیرہ دیکھتے جائیں۔اتنی دُور آکر ان کو دیکھے بغیر چلے جانا مناسب نہیں مگر میں نے کہا کہ مجھے چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ کل نہ جانے سے حج رہ جانے کا خطرہ ہے اس لئے میں تو ضرور جائوںگا۔چنانچہ اُس جہاز ران کمپنی سے گورنمنٹ کا کوئی جھگڑا تھا اس جھگڑے نے ایسی صورت اختیار کرلی کہ وہ جہاز آخری ثابت ہوا اور کمپنی والے اس سال حاجیوں کے لئے کوئی اور جہاز نہ لے گئے۔غرض کئی لوگ حج کی خواہش تو رکھتے ہیں مگر وقت پر اُسے پورا نہیں کرتے اور اس طرح وہ ایک بہت بڑی نیکی سے محروم رہ جاتے ہیں۔پس جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے استطاعت عطا فرمائی ہو۔وہ حج بیت اللہ سے مشرف ہونے کی کوشش کریں مگر حج میں بھی جب تک تقویٰ اور خشیۃ اللہ کو مدّنظر نہ رکھا جائے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔میں جب حج کرنے کے لئے گیا تو سوؔرت کے علاقہ کے ایک نوجوان تاجر کو میں نے دیکھا کہ جب وہ منٰی کی طرف جا رہا تھا تو بجائے ذکرالٰہی کرنے کے اردو کے نہایت ہی گندے عشقیہ اشعار پڑھتا جا رہا تھا اتفاق کی بات ہے کہ جب میں واپس آیا تو جس جہاز میں مَیں سفر کر رہا تھا اُسی جہاز میں وہ بھی واپس آرہا تھا ایک دن میں نے موقعہ پا کر اُس سے پوچھا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ حج کے لئے کیوں آئے تھے۔میں نے تو دیکھا ہے کہ آپ منٰی کو جاتے ہوئے بھی ذکر الٰہی نہیں کر رہے تھے۔اُس نے کہا اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں حاجی کی دوکان سے لوگ سودا زیادہ خریدا کرتے ہیں جہاں ہماری دوکان ہے اُس کے بالمقابل ایک اور شخص کی دوکان بھی ہے۔وہ حج کرکے گیا اور اُس نے اپنی دوکان پر حاجی کا بورڈ لگا لیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے گاہک بھی اُدھر جانے لگ گئے۔یہ دیکھ کر میرے باپ نے