تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 157
پھر حج سے مسلمانوں کے اندر مرکزیت کی روح بھی پیدا ہوتی ہے اور انہیں اپنی اور باقی دنیا کی ضرورتوں کے متعلق غورو فکر کرنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔اسی طرح ایک دوسرے کی خوبیوں کو دیکھنے اور اُن کو اخذ کرنے کا انہیں موقع ملتا ہے اور باہمی اخوت اور محبت میں ترقی ہوتی ہے۔غرض حج ارکانِ اسلام میں سے ایک اہم رُکن ہے جس کی طرف اسلام نے لوگوں کو توجہ دلائی ہے۔وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مالی وسعت عطا فرمائی ہو اور جن کی صحت سفر کے بوجھ کو برداشت کر سکتی ہواُن کا فرض ہے کہ وہ اس حکم پر عمل کریں اور حج بیت اللہ کی برکات سے مستفیض ہوں۔میں سمجھتا ہوں آجکل کے امراء کے لئے سب سے بڑی نیکی حج ہی ہے کیونکہ باوجود مال و دولت کے وہ کبھی حج کے لئے نہیں جاتے اورجو لوگ حج پر جاتے ہیں اُن میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جن پر حج واجب نہیں ہوتا۔میں جب حج کے لئے گیا تو ایک حاجی میرے پاس آیا اور اُس نے مجھ سے کچھ مانگا۔حضرت نانا جان صاحب ؓ مرحوم میرے ساتھ تھے انہوں نے اُسے کہا کہ اگر تمہارے پاس کچھ نہیں تھا تو تم حج کے لئے آئے کیوں ؟ وہ کہنے لگا۔میرے پاس بہت روپے تھے مگر سب خرچ ہوگئے۔حضرت نانا جان مرحوم نےپوچھا کہ کتنے روپے تھے وہ کہنے لگا جب میں بمبئی پہنچا تھا تو میرے پاس پینتیس روپے تھے اور میں نے ضروری سمجھا کہ حج کر آئوں۔تو وہ پینتیس رپوئوں کو ہی بہت سمجھتا تھا مگر مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ۳۵ہزار بلکہ ۳۵۔۳۵لاکھ روپے رکھتے ہیں اور پھر بھی وہ حج کے لئے نہیں جاتے لیکن غرباء میں بہت حاجی نظر آتے ہیں۔ایک شخص ساری عمر تھوڑا تھوڑا روپیہ جمع کرتا رہتا ہے اور جب چند سو روپیہ اس کے پاس اکٹھا ہو جاتا ہے تو وہ تمام عمر کا اندوختہ لے کر حج کے لئے چل پڑتا ہے۔حالانکہ اُسی روپیہ پر اُس کے بیوی بچوں کی آئندہ زندگی کا مدار ہوتا ہے۔وہ اگر اس روپے سے اچھے بیل خرید لے یا کچھ ایکڑ زمین لے لے تو اس کے بیوی بچوں کے لئے سہولت پیدا ہو سکتی ہے لیکن وہ اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتا اور روپیہ اٹھا تا اور حج کے لئے چل پڑ تا ہے تو امراء کے لئے سب سے بڑی نیکی حج ہے۔کیونکہ وہ حج میں سب سے زیادہ کوتاہی کرتے ہیں۔اسی طرح کئی ملازم ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ پنشن لے کر حج کو جائیں گے لیکن یہ خیال نہیں کرتے کہ پنشن پانے کے بعد زندگی بھی پائیں گے یا نہیں۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ پنشن لینے کے بعد ایسے بیمارپڑتے ہیں کہ اس قابل ہی نہیں رہتے کہ حج کو جا سکیں۔پنشن تو گورنمنٹ دیتی ہی اُسی وقت ہے جب اچھی طرح نچوڑ لیتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اب یہ ہمارے کام کا نہیں رہا۔پھر بعض لوگ کاروبار کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ اگلے سال جائیںگے پھر اُس سے اگلے سال کا ارادہ کر لیتے ہیں۔حالانکہ دُنیا کے کام تو ختم ہوتے ہی نہیں۔اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی ہو تو جلدی حج کرلینا چاہیے۔