تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 159

مجھے کہا کہ تُو بھی حج کر آ تا کہ واپس آکر تُو بھی حاجی کا بورڈ اپنی دوکان پر لگا سکے۔اب بتائو کہ کیا اُس کا حج اس کےلئے ثواب کا موجب ہوا ہوگا۔ثواب کا تو کیا سوال ہے اُس کا حج اُس کےلئے یقیناً گناہ کا موجب ہوا ہوگا۔پس انسان کو اپنے تمام کاموں میں ہمیشہ یہ امر ملحوظ رکھنا چاہیے کہ اچھے سے اچھا کام کرنے میں بھی خدا تعالیٰ کی رضا کو مدّنظر رکھے۔ورنہ وہی نیکی اس کے لئے ہلاکت اور عذاب کا باعث بن جائےگی۔بے شک حج ایک بڑی نیکی ہے لیکن اگر کوئی شخص محض اس لئے حج پر جاتا ہے کہ اس کا لوگوں میں اعزاز بڑھ جائے یا رسم و رواج کے ماتحت جاتا ہے یا اس لئے جاتا ہے کہ لوگ اُسے حاجی کہیں تو وہ اپنا پہلا ایمان بھی مٹا کر آئےگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ سردی کا موسم تھا۔کسی ریل کے اسٹیشن پر کوئی اندھی بڑھیا گاڑی کے انتظار میں بیٹھی تھی۔اس کے پاس کوئی کپڑا بھی نہ تھا سوائے ایک چادر کے جو اُس نے پاس رکھی ہوئی تھی۔تاکہ جب گاڑی میں بیٹھنے کے بعد تیز ہوا کی وجہ سے سردی محسوس ہو تو اوڑھ لے۔اُس نے وہ چادر پاس رکھی ہوئی تھی اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ اُسے ٹٹول لیتی تھی۔ایک شخص اس کے پاس سے گذرا اور اُس نے سوچا کہ یہ تو اندھی ہے او ر پھر اندھیرا بھی ہو چکا ہے۔اس لئے اگر میں یہ چادر اٹھا لوں تو نہ اس کو پتہ لگے گا اور نہ پا س کے لوگوں کو پتہ لگے گا۔اس پر اُس نے چپکے سے وہ چادر کھسکا لی۔بڑھیا چونکہ بار بار اُسے ٹٹولتی تھی اُسے پتہ لگ گیا کہ کسی نے چادر اٹھالی ہے۔اُس نے جھٹ آوازیں دینی شروع کر دیں کہ اے بھائی حاجی میری چدر دے دو۔میں اندھی غریب ہوں اور میرے پاس اور کوئی کپڑا نہیں۔وہ شخص فوراً واپس مڑا اور اُس نے چادر تو آہستہ سے اُس کے ہاتھ میں پکڑا دی مگر کہنے لگا۔مائی یہ تو بتائو تمہیں کس طرح پتہ لگا کہ میں حاجی ہوں۔وہ بڑھیا کہنے لگی بیٹا ! ایسے کام سوائے حاجیوں کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔میں اندھی کمزور اور غریب ہوں ، سردی کا موسم ہے اور میں بالکل اکیلی ہوں۔ایسی حالت میں میرا ایک ہی کپڑا چُرانے کی کوئی عادی چوربھی جرأ ت نہیں کر سکتا۔یہ ایسا کا م ہے جسے حاجی ہی کر سکتا ہے۔غرض حج کااُسی صورت میں فائدہ ہو سکتا ہے جب انسان اپنے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف رکھے اور اخلاص اور محبت کے ساتھ اس فریضہ کو ادا کرے۔اگر وہ اخلاص کے ساتھ حج کے لئے جاتا ہے تو وہ ایمانوں کے ڈھیر لے کر واپس آتا ہے اوراگر وہ اخلاص کے بغیر جاتا ہے تو وہ اپنے پہلے ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان آیا ت میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو البیت العتیق قرار دےکر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ نہیں بنایا بلکہ وہ پہلے سے بنا ہو ا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمٰعیل ؑ کے ساتھ مل کر صرف پہلے نشانوں پر اس کی دوبارہ تعمیر کی تھی۔چنانچہ حضرت ہاجرہ ؓ اور حضرت اسمٰعیل ؑ