تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 156
جس کا ایک ہی بیٹا تھا جو اُس وقت موت کی نذر ہو رہا تھا فوراً رُک گئی اور کہنے لگی اگر یہ بات ہے تو پھر خدا ہمیں کبھی ضائع نہیں کرےگا۔آخر پانی ختم ہو ا۔غذا ختم ہوئی اور باوجود اس کے کہ اس علاقہ میں کوئی چیز نظر نہ آتی تھی حضرت ہاجرہ ؓ اپنے بچے کی تکلیف کو نہ دیکھ کر جو پیاس سے تڑپ رہا تھا ایک ٹیلے پر چڑھ گئیں کہ شاید کوئی آدمی نظر آئے اور اس سے پانی مانگ لیں یا شاید کوئی آبادی دکھائی دے۔انہوں نے جس حد تک انسانی نظر کام کر سکتی تھی دیکھا مگر انہیں کہیں پانی کا نشان نظر نہ آیا۔تب وہ اسی گھبراہٹ میں اُتریں اور دوڑتی ہوئی دوسرے ٹیلے پر چڑھ گئیں۔وہاں سے بھی دیکھا مگر پانی کے کوئی آثار نظر نہ آئے۔اسی کرب و اضطراب کی حالت میں حضرت ہاجرہ ؓ سات دفعہ دوڑیں اور آخر اُن کا دل بیٹھنے لگا کہ اب کیا ہوگا۔اس پر معاً خدا تعالیٰ کا الہام نازل ہوا کہ اے ہاجرہ ؓ ! خدا نے تیرے بچےکےلئے سامان پیدا کر دیا ہے۔جا اور اپنے بچے کو دیکھ۔حضرت ہاجرہ ؓ واپس آئیں تو انہوں نے دیکھا کہ جہاں بچہ پیاس سے تڑپ رہا تھا وہاں پانی کا ایک چشمہ اُبل رہا ہے۔یہی وہ چشمہ ہے جس کو چاہ زمزم کہتے ہیں۔زمزم درحقیقت اُس گیت کو کہتے ہیں جو خوشی میں گایا جاتا ہے۔معلوم ہوتا ہے حضرت ہاجرہ ؓ نے اُس چشمہ کانام خود زمزم رکھا تھا کیونکہ اس چشمہ کے ذریعہ سے اپنے بچہ کی نجات کی خوشی میں اُن کےلئے شکریہ میں گانے کا موقعہ پیدا ہوا تھا۔پانی کا تو اللہ تعالیٰ نے اس طرح انتظام کر دیا اب غذا کی فکر تھی۔اتفاقًا ایک قافلہ راستہ بھول گیا اور وہ اُسی جگہ آپہنچا جہاں حضرت ہاجرہ ؓبیٹھی تھیں۔قافلہ والوں کو پانی کی سخت ضرورت تھی انہوں نے جب وہاں چشمہ دیکھا تو حضرت ہاجرہ ؓ سے کہا کہ ہم آپ کی رعایا بن کر یہاں رہیں گے۔آپ ہمیں اس جگہ بسنے کی اجازت دے دیں۔حضرت ہاجرہ ؓ نے انہیں اجازت دےدی۔اور وہ وہاں حضرت ہاجرہ ؓ اور اسمٰعیل ؑ کی رعایا بن کر رہنے لگے۔اور پیشتر اس کے کہ اسمٰعیل ؑ جو ان ہوتا خدا نے اُسے بادشاہ بنا دیا۔( بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب یزفون النَّسْلَانُ فِی الْمَشْیِ) آج تک حج کے ایّام میں حضرت ہاجرہ ؓ کے اس واقعہ کی یاد گار کے طور پر ہی صفاؔ اور مروہؔ پر ہر حاجی کو سات دفعہ دوڑنا پڑتا ہے۔یہ دوڑنا حضرت ہاجرہ ؓ کے نقشِ قدم پر چلنے کا ایک اقرار ہوتا ہے۔یہ دوڑنا اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ اگر ہمیں بھی خدا کے لئے کسی وقت اپنے عزیزوں کو چھوڑ نا پڑا تو ہم انہیں چھوڑنے میں کوئی دریغ نہیں کریں گے۔پس حج ایک اہم عبادت ہے جو اسلام نے مقرر کی ہے۔جب کوئی شخص مکہ مکرمہ میں جاتا ہے اور مناسکِ حج کو پوری طرح بجا لاتا ہے تو اس کی آنکھوں کے سامنے یہ نقشہ آجاتا ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرنے و الے ہمیشہ کے لئے زندہ رکھے جاتے ہیں۔