تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 155
خدا تعالیٰ کی رؤیت اور اس کا دیدار۔مگر اس کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک ظاہر ی جسم بھی رکھ دیا تا کہ جسم کے ذریعہ رُوح کی بھی حفاظت ہوتی رہے۔پھر حج اُس سچّے اخلاص کے واقعہ کو بھی تازہ کرتا ہے جس کا نمونہ آج سے چارہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دکھا یا اور جس کے نتائج آج تک دنیا کو نظر آرہے ہیں۔اُورکی سرزمین میں آج سے چار ہزار سال پہلے ایک مشرک گھرانے میں ایک بچہ پیدا ہوا( دیکھو پیدائش باب ۱۱آیت۲۶ ) اُس نے ایسے لوگوں میں تربیت پائی جن کا رات دن مشغلہ خدا کا شریک بنانااور ُبتوںکی پرستش کرناتھا۔مگر وہ بچہ ایک نورانی دل لے کر پیداہوا تھا۔اور وہ بچپن سے ہی بتوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا کرتا تھا۔جب دنیا کی بڑھتی ہوئی گمراہی اور اُس کے طوفانِ ضلالت کو دیکھ کر خدا تعالیٰ نے چاہا کہ بنی نوع انسان میں سے کسی کو اپنا بنائے تو اُس کی جوہر شناس نگاہ نے کسدیوں کی بستی میں سے ابراہیم کو چنا ( پیدائش باب۱۱آیت۳۱) اور اُسے اپنے فضل سے ممسوح کیا۔اور اُسے کہا کہ اے ابراہیم جا اور اپنے بیٹے کو قربان کر تاکہ لوگوں سے الگ میری خاص حفاظت اور نگرانی میں ایک پنیری لگائی جائے۔نیکی اور تقویٰ کی پنیری۔ایک چشمہ پھوڑاجائے۔پاکیزگی اور طہارت کا چشمہ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا بہت اچھامیں تیار ہوں چنانچہ انہوں نے اپنے اس بیٹے کو جو بڑھاپے میں نصیب ہواتھا۔اس وادیٔ غیر ذی زرع میں لاکر چھوڑ دیا۔جس کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ اُس میں کھانے اور پینے کا کوئی سامان نہیں تھا۔(ابراہیم آیت ۳۸) ایسی پُر خطر اور بھیانک وادی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف اس لئے اپنے بیٹے اور اُس کی والدہ کو چھوڑا تاکہ خدا کا ذکر بلند ہو اور اُس کی کھوئی ہوئی عظمت دنیا میں پھر قائم ہو۔صرف ایک مشکیزہ پانی اور ایک تھیلی کھجور اُس ماں اور بچے کو دئے گئے جن کے متعلق یہ الٰہی فیصلہ تھا کہ اب انہوں نے اسی جنگل میں ہمیشہ کے لئے اپنی زندگی بسر کرنی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سوچا کہ ایک مشکیزہ پانی اور ایک تھیلی کھجور کتنے دن کا م دے سکتی ہے۔پھر سوائے ریت کے ذروں اور آفتاب کی چمک کے او ر کوئی چیز میری بیوی اور بچے کے لئے نہیں ہوگی۔یہ سوچتے ہی اُن پر رقت طاری ہوگئی۔اور آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔حضرت ہاجرہ ؓ ان کی آنکھوں کی نمی اور ہونٹوں کی پھڑ پھڑ اہٹ سے سمجھ گئیں کہ بات کچھ زیادہ ہے۔وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے چلیں اور کہنے لگیں ابراہیم ! تم ہمیں کہاں چھوڑ چلے ہو۔یہاں تو پینے کے لئے پانی تک نہیں اور کھانے کے لئے کوئی غذا نہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دینا چاہا مگر رقّت کی وجہ سے آواز نہ نکل سکی۔تب حضرت ہاجرہؓ نے کہا کہ کیا آپ خدا کے حکم سے ایسا کر رہے ہیں یا اپنی مرضی سے۔اس پر انہوں نے آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا دئیے جس کے معنے یہ تھے کہ میں خدا کے حکم کے ماتحت ایسا کر رہا ہوں۔اس جواب کو سُن کر یقین اور ایمان سے پُر ہاجرہؓ جو اپنی جوانی کی عمر میں تھی اور