تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 154

دنیامیں موجود ہیں۔گویا حج دنیا کو یہ پیغام پہنچاتا ہے کہ اسلام کی رگوں میں اب بھی زندگی کا خون دوڑ رہا ہے۔اب بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق رکھنے والے لوگ اسلام کے مرکز مکّہ مکرمہ میں جمع ہیں اور انہوں نے اپنے اس تعلق کا اعلان کیا ہے جو انہیں اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہے۔انہوں نے اس بات کی شہادت دی ہے کہ چاہے کمزورہی سہی لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا اب بھی دنیا میں موجو د ہیں اور اب بھی مسلمانوں کی قومی زندگی کی رگ پھڑک رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جس طرح نماز اور روزہ اور زکوٰۃ کو ضروری قرار دیا ہے اسی طرح اُس نے حج کو بھی ایک ضروری فریضہ قرار دیا ہے۔بے شک حج کی اصل غرض روحانی طور پر یہ ہے کہ انسان ہر قسم کے تعلقات کو توڑ کر دل سے خدا کا ہو جائے۔مگر اس غرض کو پورا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک ظاہر ی حج بھی رکھ دیا اور صاحب استطاعت لوگوں پر یہ فرض قرار دے دیا کہ وہ گھر بار چھوڑ کر مکّہ مکرمہ میں جائیں۔اور اس طرح اپنے وطن اور عزیز و اقرباء کی قربانی کا سبق سیکھیں۔کیونکہ اسلام جسم اور رُوح دونوں کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے جس طرح دنیا میں ہر ایک انسان کا ایک مادی جسم ہوتا ہے اور اس جسم میں رُوح ہوتی ہے۔اسی طرح مذہب اور روحانیت کے بھی جسم ہوتے ہیں جن کو قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔مثلاً اسلام نے نماز کی ادائیگی کے لئے بعض خاص حرکات مقرر کی ہوئی ہیں۔اب اصل غرض تو نماز کی یہ ہے کہ انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہو۔اس کی صفات کو وہ اپنے ذہن میں لائے اور اُن کے مطابق اپنے آپ کو بنانے کی کوشش کرے۔ان باتوں کا بظاہر ہاتھ باندھنے یا سیدھا کھڑا ہو نے یا زمین پر جھک جانے سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا مگر چونکہ کوئی رُوح جسم کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی اس لئے خدا تعالیٰ نے جہاں نماز کا حکم دیا وہاں بعض خاص قسم کی حرکات کا بھی حکم دےدیا۔جن مذاہب نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا اور انہوں نے اپنے پیروؤں کے لئے عبادت کرتے وقت جسم کی حرکات کو ضروری قرار نہیں دیا وہ رفتہ رفتہ عبادت سے ہی غافل ہوگئے ہیں۔اور اگر اُن میں کوئی نماز ہوتی بھی ہے تو ایک تمسخر سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔اسی طرح گو حقیقی حج یہی ہے کہ انسان ہر قسم کے تعلقات کو منقطع کرکے خدا کا ہو جائے ،چنانچہ اسی لئے خواب میں اگر کوئی شخص اپنے متعلق دیکھے کہ اُس نے حج کیا ہے تو اُس کی تعبیر یہ ہوتی ہے کہ اس کا مقصد پورا ہوجائے گا اور یہ ظاہر ہےکہ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد خدا تعالیٰ کی عبادت اور اُس کا قرب حاصل کرنا ہے۔جیسے وہ فرماتا ہے کہ مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِ لَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذاریات:۵۷) کہ میں نے بنی نوع انسان کو صرف اپنا مقرب بنانے کے لئے پیدا کیا ہے۔پس حج اس بات کی علامت ہے کہ جس غرض کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا تھا وہ اُس نے پوری کرلی۔یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لو کہ حج کیا ہے؟