تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 151

اس کا حق ہے کہ وہ ضرورت محسوس ہو نے پر ان اُمور کے متعلق بھی لوگوں سے باتیں کرلے۔بہر حال مسجد میں خالص ذاتی کاموں کے متعلق باتیں کرنا منع ہے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کسی کی کوئی چیز گم ہوجائے تو وہ اس کے متعلق مسجد میں اعلان نہ کرے۔(مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ باب النھی عن نشد الضالۃ فی المسجدوما یقولہ من سمع الناشد ) پس مساجد صرف ذکر الٰہی کے لئے ہیں لیکن ذکر الٰہی ان تمام باتوں پر مشتمل ہے جو انسان کی ملی، سیاسی ، علمی اور قومی برتری اور ترقی کے لئے ہوں۔لیکن وہ تمام باتیں جو لڑائی د نگہ فساد یا قانون شکنی سے تعلق رکھتی ہوں خواہ اُن کا نام مِلّی رکھ لو یا سیاسی ، قومی رکھ لو یا دینی ان کا مساجد میں کرنا ناجائز ہے۔اسی طرح مساجد میں ذاتی امور کے متعلق باتیں کرنا بھی منع ہے۔کیونکہ اسلام مسجد کو بیت اللہ قرار دیتا اور اُسے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے مخصوص قرارد یتا ہے۔وَ اَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ اور تمام لوگوں میں اعلان کردے کہ وہ حج کی نیت سے تیرے پاس آیا کریں۔پیدل بھی اور ہر ایسی سواری پر ضَامِرٍ يَّاْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍۙ۰۰۲۸لِّيَشْهَدُوْا بھی جو لمبے سفر کی وجہ سے دُبلی ہو گئی ہو ( ایسی سواریاں ) دُور دُور سے گہرے راستوں پر سے ہوتی ہوئی آئیںگی۔مَنَافِعَ لَهُمْ وَ يَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِيْۤ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ تاکہ وہ ( یعنی آنےوالے ) اُن منافع کو دیکھیں جو اُن کے لئے ( مقرر کئے گئے )ہیں۔اور کچھ مقرر دنوں میں اللہ( تعالیٰ) عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا کو اُن نعمتوں کی وجہ سے یاد کریں جو ہم نے ان کو دی ہیں ( یعنی ) بڑے جانوروں کی قسم سے ( جیسے گائے اونٹ وَاَطْعِمُوا الْبَآىِٕسَ الْفَقِيْرَٞ۰۰۲۹ثُمَّ لْيَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وغیرہ ) پس چاہیے کہ وہ اُن کے گوشت کھائیں اور تکلیف میں پڑے ہوئے اورنادار کو کھلائیں۔پھر اپنی میل دور