تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 152

وَ لْيُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْيَطَّوَّفُوْا بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ۰۰۳۰ کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور پُرانے گھر ( یعنی خانہ کعبہ ) کا طواف کریں۔حلّ لُغَات۔رِجَالًا۔رِجَالًا رَجُلٌ کی جمع ہے اور اَلرَّاجِلُ کے معنے ہیں وہ آدمی جس کے پاس کوئی سواری نہ ہو۔یعنی پیادہ۔(اقرب) ضَامِر۔ضامرٌ: اَلْقَلِیْلُ اللَّحْمِ الدِّ قِیْقُ۔تھوڑے گوشت والا یُقَالُ جَمَلٌ ضَامِرٌ وَنَاقَۃٌ ضَامِرَۃٌ یہ لفظ اونٹ اور اونٹنی دونوں کے لئے جبکہ وہ لاغر ہوںاور ان کا گوشت تھوڑا ہو بولا جاتا ہے۔(اقرب) اَلْفَجُّ۔اَلْفَجُّکے معنے ہیں اَلطَّرِیْقُ الْوَاسِعُ الْوَاضِحُ بَیْنَ جَبَلَیْنِ۔وہ کھلا راستہ جو دو پہاڑوں کے درمیان ہو تا ہے۔تَفَثٌ تَفَثٌ کے معنے ہیں اَلْوَسَخُ۔میل ( اقرب ) تفسیر۔فرماتا ہے ہم نے ابراہیم ؑ کویہ بھی کہہ دیا تھا کہ یہ حکم صرف تیرے لئے نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کے لئے ہے کہ لوگ دُوردُور سے سفر کی وجہ سے دُبلی ہونے والی سواریوں پرچڑھ کر جو رستوں میں بھی کثرتِ سفر کی وجہ سے گڑھے ڈال دیں گی اور تیز دوڑنے والی ہوں گی تیرے پاس آئیں تاکہ دنیوی نفع بھی اُن کو پہنچے اور مقررہ دنوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی وہ خوب کریں اور اس طرح ساری دنیا میں ایک دین قائم ہو جائے۔اور چاہیے کہ تم میں سے مالدار لوگ قربانیوں کے گوشت میں سے خود بھی کھائیں اور باقی غریبوں کو بھی کھلائیں۔اور جب قربانیاں کر چکیں تو نہائیں اور اپنی میل دُور کریں۔یعنی جسمانی لحاظ سے بھی اپنی صفائی کریں اور روحانی لحاظ سے بھی اپنے دلوں کے گند دُور کریں۔اور انہوں نے خدا تعالیٰ سے جو عہد باندھے تھے اُن کو پورا کریں اور اس پُرانے عبادت خانہ کا طواف کریں۔اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ایک بے جان چیز کو خدا تعالیٰ کا مرتبہ دیا گیا ہے بلکہ طواف کرنا ایک پُرانی رسم تھی جو قربانی دینے کی علامت تھی۔لوگ بیماروں کے گرد طواف کرتے تھے جس کے معنے یہ ہوتے تھے کہ ہم قربان ہوجائیں اور یہ بچ جائیں (Encyclopedia of Religion and Ethics underword CIRCUMAMBULATION)۔اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے کہ ایسے لوگ دنیا میں پیدا ہوتے رہیں جو اس گھر کی عظمت اور خدا تعالیٰ کی عبادت کو قائم رکھنے کے لئے اپنی جانیں قربان کرتے رہیں۔ورنہ طوافِ ظاہری تو اپنی ذات میں کوئی بڑی بات نہیں۔