تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 150
کرکے رہائش کی دِقتوں سے بچ سکتا ہے۔اور مقیم اس رنگ میں فائدہ اٹھا سکتا ہے کہ مسجد شورو شغب سے محفوظ مقام ہو تا ہے۔وہ اس میں بیٹھ کر اطمینان اور سکون سے دعائیں کر سکتا اور اپنے رب سے مناجات کر سکتا ہے۔اور وہ لوگ جو اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے وقف کر دیتے ہیں اُن کا اصل ٹھکانہ تو مسجد ہی ہوتا ہے۔کیونکہ مسجد مومنوں کے اجتماع کا مقام ہوتی ہے اور دُعائوں اور ذکر الٰہی کی جگہ ہوتی ہے۔ایسے مقام سے کوئی سچا عشق اور تعلق رکھنے والا انسان جدا ہی نہیں ہو سکتا۔مگر یہ امر بھی مدنظر رکھناچاہیے کہ ذکر الٰہی کا قائم مقام وہ تمام کا م بھی ہیں جو قومی فائدہ کے ہوں۔خواہ وہ قضاء کے متعلق ہوں یا جھگڑوں اور فسادات کے متعلق ہوں یا تعلیم کے متعلق ہوں یا کسی اور رنگ میں مسلمانوں کی ترقی اور اُن کے تنزل کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو اگر دیکھا جائے تو لڑائیوں کے فیصلے بھی مسجد میں ہوتے تھے۔قضاء بھی وہیں ہوتی تھی۔تعلیم بھی وہیں ہوتی تھی۔جس سے معلو م ہوتا ہے کہ مساجد صرف اللہ اللہ کرنے کے لئے ہی نہیں بلکہ بعض دوسرے کام بھی جو قومی ضرورتوں سے تعلق رکھتے ہیں مساجد میں کئے جا سکتے ہیں۔کیونکہ اسلام میں ذکر الٰہی صرف اس بات کا نا م نہیں کہ انسان سبحان اللہ سُبحان اللہ کہتا رہے بلکہ اگر کوئی بیوہ کی خدمت کرتا ہے تو وہ بھی دین ہے۔اگر کوئی یتیم کی پرورش کرتا ہے تو وہ بھی دین ہے۔اگر کوئی شخص قوم کی خدمت کرتا ہے تو وہ بھی دین ہے۔اگر کوئی شخص لوگوں کے جھگڑے دور کرتا اور اُن میں صلح کراتا ہے تو یہ بھی دین ہے۔پس وہ تمام کام جن سے قوم کو فائدہ پہنچے اور جو قوم کے اخلاق اور اس کی دنیوی حالت کو اونچا کریں ذکر الٰہی میں شامل ہیں اور اُن کا مساجد میں کرنا جائز ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اگر کوئی مہمان آجاتا تو آپ مسجد میں ہی صحابہ ؓ کو مخاطب کرکے فرماتے کہ فلاں مہمان آیا ہے تم میں سے کون اسے ساتھ لے جائے گا۔(بخاری کتاب المناقب باب قولہ ویؤثرون علی انفسہم۔۔۔)اب بظاہر یہ روٹی کا سوال تھا۔لیکن درحقیقت دین تھا۔اس لئے کہ اس سے ایک دینی ضرورت پوری ہوتی تھی۔لوگوں نے غلطی سے دین کے معنوں کو بہت محدود کر دیا ہے۔حالانکہ دین اس لئے نازل ہوا ہے کہ انسان کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرے اور خدا تعالیٰ بغیر کسی خدمت کے بندہ سے نہیں ملتا بلکہ وہ یتیم کی پرورش کرنے سے ملتا ہے۔وہ بیوہ کی خدمت کرنے سے ملتا ہے۔وہ کافر کو تبلیغ کرنے سے ملتا ہے۔وہ مومن کو مصیبت سے نجات دلانے سے ملتا ہے۔پس ان باتوں کا اگر مسجد میں ذکر کیا جاتا ہے تو یہ دنیا نہیں بلکہ دین کا ہی حصّہ ہوگا۔ہاں مساجد میں خالص ذاتی کاموں کے متعلق باتیں کرنا منع ہے۔مثلاً اگر تم کسی سے پوچھتے ہو کہ تمہاری بیٹی کی شادی کا کیا فیصلہ ہوا یا کہتے ہو کہ میری ترقی کا جھگڑا ہے افسر نہیں مانتے تو یہ باتیں مسجد میں جائز نہیں ہوںگی۔سوائے امام کے کہ اُس پر تمام قوم کی ذمہ واری ہوتی ہے اور