تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 144

صادر ہو جاتا ہے۔مگر وہاں کوئی بُرا فعل سر زد نہیں ہوگا۔اور انسان ہر قسم کے روحانی تنزل سے محفوظ رہے گا۔اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ (لیکن) وہ لوگ جوکافر ہیں اور اللہ کے راستہ سے اور بیت اللہ کی طرف جانے سے جس کو ہم نے تمام انسانوں کے الْحَرَامِ الَّذِيْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ ا۟لْعَاكِفُ فِيْهِ وَ فائد ہ کے لئے بنایا ہے روکتے ہیں ( حالانکہ وہ بیت اللہ ایسا ہے جس کو ہم نے تمام انسانوں کے لئے بنایا ہے ) ان کے الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ لئےبھی جو اُس میں بیٹھ کر عبادت کرتے ہیں اور اُن کے لئے بھی جو جنگلوں میں رہتے ہیں۔اور جو کوئی شخص اس ( دنیا ) عَذَابٍ اَلِيْمٍؒ۰۰۲۶ میں ظلم کی راہسے کو ئی کجی پیدا کرنا چاہے گا اُس کو ہم دردناک عذاب دیں گے۔حلّ لُغَات۔یَصُدُّوْنَ یَصُدُّوْنَ صَدَّسے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور صَدَّ عَنْہُ کے معنے ہیں اَعْرَضَ عَنْہُ ومَالَ۔اس سے اعراض کیا اور ہٹ گیا۔اور صَدَّ فُلَانًا عَنْ کَذَا کے معنے ہیں مَنَعَہٗ وَ دَفَعَہٗ وَصَرَفَہٗ عَنْہُ۔کسی کو کسی بات سے روکا اور دُور رکھا اور ہٹا ئے رکھا۔(اقرب ) پس یَصُدُّوْنَ کے معنے ہوںگے (۱) وہ رکتے ہیں (۲) وہ دوسروں کو روکتے ہیں۔اَلْعَاکِفُ اَلْعَاکِفُکے معنے ہیں اَلْمُقِیْمُ۔رہنے والا۔(اقرب) اَلْبَادُ اَلْبَادُ کے معنے ہیں اَلْمُقِیْمُ بِالْبَادِیَۃِ۔یعنی صحرا اور جنگل میں رہنے والا (مفردات )۔اِلْحَادٌ۔اِلْحَادٌ اَلْحَدَ کا مصدر ہے اور اَلْحَدَ عَنْ دِیْنِ اللّٰہِ کے معنے ہیں مَالَ و حَادَ وَعَدَلَ۔خدا تعالیٰ کے دین سے ہٹ گیا۔اور وَمَنْ یُّرِدْ فِیْہِ بِـاِ لْحَادٍ بِظُلْمٍ کے معنے ہیں اَیْ یُرِدْ عُدُوْلًا عَنِ الْـحَقِّ کہ جو حق سے دور ہونے اور ہٹنے کا ارادہ کرے گا۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے جو لوگ کعبۃ اللہ کے ساتھ تعلق چھوڑ دیں گے اور اس کی طرف جانے میں روک پیدا کریں گے وہ دنیا میں مساوات قائم کرنے سے محروم رہیں گے اور آخرت میں بھی عذاب پائیں گے۔