تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 145
سَوَآءَ ا۟لْعَاكِفُ فِيْهِ وَ الْبَادِمیں اس مساوات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اسلام نے بیت اللہ کے قیام میں مدنظر رکھی ہے اور بتایا ہے کہ یہ مسجد کسی خاص فر د کے لئے نہیں بلکہ تمام بنی نو ع انسان کے لئے بنائی گئی ہے۔اس میں غریب اور امیر اورمشرقی اور مغربی کا کوئی امتیاز نہیں۔اس کا دروازہ ہر ایک کے لئے کھلا ہے۔اس کے لئے بھی جو اُس میں بیٹھ کر خدا کی عبادت کرتا ہے اور اس کے لئے بھی جو جنگلوں میں رہتا ہے۔تاریخوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک عیسائی قبیلہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذہبی تبادلہ خیالات کرنے کے لئے آیا جس میں اُن کے بڑے بڑے پادری بھی شامل تھے۔مسجد میں گفتگو شروع ہوئی اور گفتگو لمبی ہوگئی۔معلوم ہوتا ہے وہ اتوار کا دن تھا جو عیسائیوں میں عبادت کا دن ہے۔جب اُن کی نماز کا وقت آگیا تو اس قافلہ کے ایک پادری نے کہا کہ اب ہماری عبادت کا وقت ہے آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم باہر جاکر نماز ادا کر آئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ لوگوں کو باہر جانے کی کیا ضرورت ہے ہماری مسجد میں ہی عبادت کر لیں۔آخر ہماری مسجد بھی خدا تعالیٰ کے ذکر کے لئے ہی بنائی گئی ہے۔چنانچہ ان لوگوں نے اپنے طریق کے مطابق مسجد نبویؐ میں ہی عبادت کی۔(تفسیر جامع البیان لابن جریر الطبری۔الجزء الثالث زیر تفسیر سورۃ آل عمران ) یہ تاریخی واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کے نزدیک مسجد کا دروازہ ہر مذہب و ملّت کے شرفاء کے لئے کھلا ہے اور وہ اپنے اپنے طریق کے مطابق اس میں عبادت بجا لا سکتے ہیں۔پھر عبادات میں مساوات قائم کرنے کے لئے اسلام نے امامت کے لئے بھی کسی خاندان یا کسی خاص قوم کی خصوصیت نہیں رکھی۔عیسائیوں میں مقرر ہ پادری کے سوا کوئی دوسرا آدمی نماز نہیں پڑھا سکتا۔سکھوں میں گرنتھی کے سوا دوسرا شخص گرنتھ صاحب کا پاٹھ نہیں کر ا سکتا لیکن اسلام پادریوں اور پنڈتوں کا قائل نہیں۔وہ ہر نیک انسان کو خدا تعالیٰ کا نمائندہ سمجھتا ہے اور ہر نیک انسان کو نماز میں راہنمائی کا حق دیتا ہے۔پھر غریب اور امیر مسجد میں ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ایک جج اور ایک ملزم اور ایک جرنیل اور ایک سپاہی پہلو بہ پہلو کھڑے ہوتے ہیں۔اورکوئی شخص کسی دوسرے کو اُس کی جگہ سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔انگریزوں کے گرجوں میں مختلف سیٹوں پر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ یہ جگہ فلاں لاٹ صاحب کے لئے ہے۔اور یہ فلاں خاندان کے لئے مخصوص ہے۔لیکن مسلمانوں میں اس قسم کا کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جاتا کیونکہ مسجد میں اسلام نے ہر ایک کو برابر کا حق دیا ہے۔میں جب عرب ممالک میں گیا تو اس وقت میں نے دیکھا کہ ایک مسجد کی ایک جہت میں ایک حجرہ بنا ہوا تھا۔اور اس کے ارد گرد کٹہرا لگا ہوا تھا۔میں نے بعض لوگوں سے اس کے متعلق دریافت کیا تو معلوم ہو اکہ پُرانے زمانہ