تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 143
ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ۰۰۲۴ اور اُن کا لباس اُس میں ریشم کا ہوگا۔تفسیر۔اس سے یہ مرادنہیں کہ مادی سونے کے کنگن اُن کو پہنائے جائیں گے۔مادی سونا تو وہ حقیر چیز ہے جس کو اس دنیا میں بھی مومن پھینک دیتا ہے۔اگلے جہان میں اُس کو کیا مزہ آئےگا۔پس یہ ایک تمثیلی زبان ہے۔اور کنگن سے مراد زینت کا سامان ہے۔اور سونے سے مراد یہ ہے کہ وہ سامان تباہ ہونے والا نہیں ہوگا۔کیونکہ سونے کو زنگ نہیں لگتا اور موتی سے بھی یہی مراد ہے کہ وہ سامان انسان کی طبیعت میں ایک چمک اور ملائمت پیدا کر یں گے۔جیسا کہ موتی ہوتا ہے۔وَ لِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ میں بتایا کہ اگلے جہان میں انہیں ایسا تقویٰ ملے گا جس کے اختیار کرنے میں انہیں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تقویٰ بھی لباس سے مشابہت رکھتا ہے۔جیسا کہ آتا ہے۔وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى ذٰلِكَ خَيْرٌ( الاعراف:۲۷) مگر فرماتا ہے کہ اس دنیا میں تو تقویٰ کا لباس پہننے کے لئے بڑی جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔لیکن اگلے جہان میں تقویٰ کا لباس ریشم کے مشابہ ہوگا۔یعنی اس کو اختیار کرنے کے لئے تکلیف نہیں اٹھانی پڑے گی بلکہ وہ نہایت آرام دہ ہوگا اور طبیعت خود بخود ہی تقویٰ کی طرف مائل ہو گی اُسے مجبور نہیں کرنا پڑے گا۔وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ اور اُن کی پاک باتوں کی طرف راہنمائی کی جائے گی۔اور قابلِ تعریف الْحَمِيْدِ۰۰۲۵ طریق کار کی ہدایت کی جائے گی۔تفسیر۔پھر فرماتا ہے کہ صرف لباس ہی نہیں اُن کی زبان بھی بڑی اچھی ہوگی اور طور طریقہ بھی اچھا ہوگا۔یہاں تک کہ اُن کے ہمسائے اور اللہ تعالیٰ بھی اُن کے طور طریقے کی تعریف کرے گا اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنّت صرف بےکار بیٹھنے کی جگہ نہیں بلکہ عمل کا مقام ہے۔صرف اتنا فرق ہے کہ اس جہان میں انسان سے گناہ بھی