تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 142
مَقَامِعُ مَقَامِعُ اَلْمِقْمَعَۃُ کی جمع ہے۔اور اَلْمِقْمَعَۃُ کے معنے ہیں اَلْعَمُوْدُ مِنْ حَدِیْدٍ لوہے کی گرز۔وَقِیْلَ کَالْمِحْجَنِ یُضْرَبُ بَہٖ رَأ سَ الْفِیْلِ۔بعض علمائے لغت یہ کہتے ہیں کہ مِقْمَعَۃٌ کے معنے ایسی چھڑی کے ہیں جس کے ذریعہ سے ہاتھی کے سر پر ضرب لگائی جاتی ہے۔اسی طرح مِقْمَعَۃٌ کے معنے ہیںخَشْبَۃٌ یُضْرَبُ بِھَا الْاِنْسَانُ عَلٰی رَأسِہٖ لِیُذَلَّ وَیُھَانَ۔وہ لکڑی جس کے ذریعہ سے انسان کے سر پر اس لئے مارا جاتا ہے تا کہ وہ ذلیل اور رسوا ہو (اقرب)۔تفسیر۔فرماتا ہے۔یہ دو گروہ یعنی قانونِ قدرت کی اتباع کرنےو الے اور اس سے آزادی چاہنے والے اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے رہتے ہیں۔لیکن نتیجہ ثابت کر دیتا ہے کہ ان میں سے حق پر کو ن ہے اور باطل پر کون۔چنانچہ قانونِ قدرت کا مقابلہ کرنےوالے ہمیشہ ناکامی اور نا مرادی کا مُنہ دیکھتے رہتے ہیںاور ایک روحانی آگ میں پڑے رہتے ہیں۔اُن کے سروں پر بھی گرم پانی پڑتا رہتا ہے ایسا گرم پانی جو اُن کے پیٹوں تک کی چیزوں کو جلا دیتا ہے۔یعنی اُن کے دماغوں میں ایسے وحشیانہ خیالات آتے رہتے ہیں جو اُن کو سیاہ باطن ثابت کرتے رہتے ہیں۔ایسے لوگوں کو سخت سزا دی جائےگی۔جو صرف اندرونی ہی نہیں بلکہ بیرونی بھی ہوگی۔یعنی پہلی سزا تو یہ ہوگی کہ اُن کے دلوں میں پریشان خیالات اٹھیں گے جن سے اُن کا باطنی امن بر باد ہو جائےگا۔اور پھر بیرونی سزائیں بھی ملیں گی۔یعنی خارجی امن بھی بر باد ہو جائےگا۔اور جتنی کوشش بھی وہ عذاب سے بچنے کی کریںگے اتنا ہی وہ اُس میں اور پھنستے چلے جائیں گے۔کیونکہ اُن کے عذاب کی بنیاد اُن کے دماغی خیالات پر ہو گی۔اوردماغی خیالات پر قابو پانا اُن کے بس کی بات نہیں۔پس اندرونی سزا بھی اور بیرونی سزا بھی جاری رہے گی۔کیونکہ اندرونی سزا بیرونی سزا کو کھینچتی ہے۔اس آیت میں روحانی اور جسمانی دونوں عذابوں کا ذکر ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ اُن کے جسم تو آگ میں جلتے ہی ہوںگے۔اُن کے دلوں میں بھی آگ لگی ہوئی ہوگی جس سے بچنے کا انہیں کوئی راستہ نظر نہیں آئےگا۔اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ اللہ (تعالیٰ )یقیناً مومنوں کو جو مناسب حال عمل بھی کرتے ہیں ایسے باغات میں رکھّے گا جن ( کے سایہ ) میں تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ نہریں بہ رہی ہوں گی۔اُن کو اس میں سونے اور موتیوں کے جڑاو والے کنگن پہنائے جائیں گے۔