تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 141
ہے کہ بعض انسان قانونِ قدرت کو توڑ نے کی بھی کوشش کرتے رہتے ہیں۔جیسے بدپرہیزی کے ذریعہ۔اور ان لوگوں میں سے اکثر پر عذاب آجاتا ہے۔جو قانونِ قدرت کے اٹل ہو نے پر دلالت کرتا ہے۔اور ثابت ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قانون کو توڑنے سے کو ئی شخص عزّت نہیں پا سکتا اور اُسی کی مشیئت آخر دنیا میں غالب آتی ہے۔هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ١ٞ فَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا یہ دو باہم مخالفت کرنے والے گروہ ایسے ہیں جو اپنے رب کے بارہ میں جھگڑرہے ہیں۔پس جو اللہ (تعالیٰ) کی قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ مذکورہ بالا صفات کے کافر ہوئے اُن کے لئے آگ کے کپڑے بنائے جائیں گے۔او ر اُن کے سروں پر گر م گرم رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُۚ۰۰۲۰يُصْهَرُ بِهٖ مَا فِيْ بُطُوْنِهِمْ وَ پانی ڈالا جائیگا۔(حتیٰ کہ ) اس گرم پانی کی وجہ سے جو کچھ اُن کے پیٹ میں ہے وہ بھی گل جائےگا اور اُن کے الْجُلُوْدُؕ۰۰۲۱وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيْدٍ۰۰۲۲كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا چمڑے بھی (گل جائیںگے)۔اور اُن کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ( تیار کئے جائیں گے )۔جب وہ غم اور اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا فکر کی وجہ سے اُس عذاب سے نکلنے کی کوشش کریں گے تو پھر اسی کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے ( اور کہا جائےگا) عَذَابَ الْحَرِيْقِؒ۰۰۲۳ جلانے والا عذاب بھگتتے چلے جائو۔حلّ لُغَات۔یُصْھَرُ۔یُصْھَرُصَھَرَ سے مضارع مجہول کا صیغہ ہے اور صَھَرَ الشَّیْءَ کے معنے ہیں اَذَابَہٗ۔اُس کو پگھلایا۔پس یُصْھَرُ کے معنے ہیں اُس کو پگھلایا جائے گا (اقرب)۔