تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 119
کے مقابلہ میں ٹھہر ہی نہیں سکتی۔(اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِيْنَ هَادُوْا سے وَ مَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍتک آیت نمبر ۱۸تا ۲۶) یہ ابراہیمی دعا کے دوسرے حصہ کا مصداق ہے پھر یہ کیونکر ناکام رہ سکتا ہے۔اس کی ناکامی ابراہیم ؑ کی بھی ناکامی ہے۔(وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ سےاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍٍ تک آیت۲۷تا ۳۹) بے شک محمدؐ رسول اللہ کی سخت مخالفت ہے اور بے شک اُس نے ایک لمبے عرصے تک صبر کیا ہے مگر خدا تعالیٰ اسے دفاع کی اجازت دے گا اور اپنی مدد سے اِسے فتح دے گا ( مسیحیت دفاع کو بھی ناجائز قرار دیتی ہے۔یہ تعلیمی مقابلہ بھی ہے ) اور اس کا انجام تمام گزشتہ اولو العزم رسولو ں کی طرح ہو گا۔(اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْاسے وَ الَّذِيْنَ سَعَوْا فِيْۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ تک آیت۴۰تا۵۲)۔پھر فرمایا کہ سب نبیوں کی مخالفت ضروری ہوتی ہے شیطان ان کی کامیابی کے راستہ میں روڑے اٹکاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ ہمیشہ ان روکوں کو دُور کرکے انبیاء کو فتح دیتا ہے۔ایسا ہی اب بھی کرےگا۔اور سب ادیان پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غالب آئیں گے۔اور مختلف موقعوں پر ثابت ہوجائے گا کہ وہ سچے مذہب پر قائم ہیں ( وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِيٍّ سے وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ تک آیت۵۳تا۵۸) دفاعی مقابلے کی نسبت بتا یا کہ یہ جائز ہوتا ہے بلکہ جو لوگ دین کے لئے دفاعی جنگ کر تے ہیں خدا تعالیٰ اُن کی مدد کرتا ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو دنیا میںہدایت ناکام ہو جائے۔( وَ الَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا سے وَ اَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ تک آیت ۵۹تا۶۳) پھر بتا یا کہ ہدایت آتی ہی کامیاب ہونے کے لئے ہے جس طرح بارش دنیا کو تازگی دینے کے لئے ہوتی ہے۔یہ ایک دَور ہوتا ہے جو چلتا رہتا ہے۔جب ہدایت ایک دَور ختم کر لیتی ہے تو وہ دوسرے دَور کے لئے بیکار ہوجاتی ہے اور نئے دَور کی تعلیم کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔(اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًسے اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرٌ تک آیت ۶۴ تا ۷۱) فرماتا ہے کہ اس کا بڑا نشان یہ ہوتا ہے کہ پہلے دَور کی ہدایت ( انسانی خیالات سے مخلوط ہو جانے اور نئے زمانہ کی ضرورتوں کو پورا نہ کر سکنے کی وجہ سے ) خدائی تائید سے محروم ہو جاتی ہے۔اگر وہ اب تک خدا تعالیٰ کی پسندیدہ ہدایت ہوتی تو جو نصرت اُسے پہلے ملتی تھی اب کیوں نہ ملتی۔یہی وجہ ہے کہ سابق ہدایت کے مدعی خدا تعالیٰ کی جگہ اپنے ہاتھ میں سزا لینا چاہتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی نصرت سے محرومی کی وجہ سے ناکام ہو جاتے ہیں۔