تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 118
رسالت ثابت نہیں ہو سکتی تھی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ اوّل شریعتِ جدید ہ کے لانے کا اور دوم ساری دنیا کی طرف آنے کا تھا۔اگر مسیحیت اپنی اصلی شکل میں قائم تھی تو ایک سچا اور قابلِ عمل دین دنیا میں موجود تھا اُس کے ہوتے ہوئے کسی ایسی شریعت کا آنا جائز نہ تھا جو سب قوموں کے لئے ہو۔کیونکہ جب مسیحیت ایک زندہ مذہب تھا تو مسیحیوں کو اسلام کی کیا ضرورت تھی ؟پس سورۃ مریم میں مسیحیت کے اصول کا ردّ کیا اور مسیح ؑ کی پیدائش اور اس کے دعویٰ کے حالات بیا ن کئے اور اُسے دوسرے نبیوں جیسا ثابت کیا۔سورۃ طٰہٰ میں مسیحیت کے اس دعویٰ کو تفصیل سے ردّ کیا کہ شریعت لعنت ہے۔سورۃ انبیاء میں اس مضمون کی دوسرے رنگ میں وضاحت کی کہ اگر ورثہ کے گناہ سے انسان پاک نہیں ہوسکتا تو ایک لمبا سلسلہ انبیاء کا کس لئے آیا اور اُن کے دشمنوں کو سزاکیوں ملی ؟ کیونکہ ورثہ کے گناہ کی وجہ سے تو انسان مجبور ہے اور مجبور کو سزا نہیں دی جا سکتی۔اب اس سورۃ میں بتا تا ہے کہ اگر مسیح آخری نقطہ روحانیت کا تھا تو اُن کے بعد کوئی نبی اور کوئی شریعت نہیں آنی چاہیے تھی کیونکہ مسیح کامل ترین تھا۔اور شریعت متروک ہو چکی تھی لیکن محمد ؐ رسول اللہ کا وجود اس دعویٰ کو باطل کر دیتا ہے۔اُس کے سّچا ہونے کی پہلی دلیل یہ ہے کہ سابق انبیاء کی طرح اُس کے دشمن ہلاک ہونگے۔دوسری دلیل یہ ہے کہ اس کی تعلیم ضروری اور پُر حکمت باتوں پر مشتمل ہے۔تیسری دلیل یہ ہے کہ اس کے ماننے والے روحانی اور مادی طور پر ترقی کر جائیں گے۔چوتھی دلیل یہ ہے کہ محمد ؐ رسول اللہ کو غیر معمولی برکات آسمان سے ملیں گی۔اور پانچویں دلیل یہ ہے کہ تمام مذاہب کے لوگ بشمولیت مسیحیت اس سے شکست کھا جائیںگے۔خلاصۂ سورۃ اس سورۃ کے شروع میں عذاب الٰہی سے ڈرایا گیا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو پہنچے گا (يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْسے عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيْدٌ تک آیت نمبر ۲و۳) پھر بتا یا گیا ہے کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دلائل ہیں۔اور دلائل کا مقابلہ زبانی دعوے نہیں کر سکتے۔(وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ سے لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِيْرُ تک آیت نمبر۴تا۱۴) اس کے بعد بتا یا گیا کہ محمد ؐرسول اللہ کے ساتھ تائیدات سماوی ہیں۔ان کے ہوتے ہوئے ان کے دشمن خواہ کسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں کس طرح جیتنے کی اُمید رکھ سکتے ہیں۔(اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ سےاَنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ تک آیت نمبر۱۵تا ۱۷) پھر اس کی تعلیم ایسی پُرامن اور بابرکت ہے اور اس کے مخالفوں کی تعلیم ایسی تکلیف دہ ہے کہ ایک دوسرے