تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 108

جائوگے۔اللہ تعالیٰ کایہ کلام کس شان اور عظمت سے پورا ہو ا۔اس کی تفصیل سورئہ بنی اسرائیل کے مطالعہ سے معلوم ہوسکتی ہے۔اللہ تعالیٰ اس میں فرماتا ہےوَ قَضَيْنَاۤ اِلٰى بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ فِي الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيْرًا۔فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا۔ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِيْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا (بنی اسرائیل:۵ تا ۷) یعنی ہم نے تورات میںبنی اسرائیل کویہ بات کھول کر پہنچادی تھی کہ تم یقیناً اس ملک میںدو دفعہ فساد کروگے۔اور یقیناً تم بڑی سرکشی اختیار کرو گے چنانچہ جب ان دو دفعہ کے فسادات میں سے پہلی دفعہ کاوعدہ پورا ہونے کا وقت آیا تو ہم نے اپنے بعض بندوں کو تمہاری سرکوبی کے لئے تم پرکھڑاکردیا۔جو سخت جنگجو تھے اور وہ تمہارے گھروں کے اندر جاگھسے اور یہ وعدہ بہرحال پورا ہو کر رہنے والا تھا۔پھر ہم نے تمہاری طرف دوبارہ دشمن پرحملہ کرنے کی طاقت کو لوٹا دیا۔اور ہم نے مالوں اور بیٹوں کے ذریعہ سے تمہاری مددکی اور ہم نے تمہیں جتھے کے لحاظ سے پہلے سے بھی زیادہ مضبوط کردیا۔پھر فرماتا ہےفَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًا۔عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ حَصِيْرًا(بنی اسرائیل:۸ ،۹) جب دوسری بار والا وعدہ پورا ہونے کا وقت آگیا۔تاکہ وہ دشمن تمہارے منہ خوب کالے کریں۔اور تمہارے معزز لوگوں سے ناپسندیدہ معاملہ کریں اور اسی طرح ،مسجد میںداخل ہوںجس طرح وہ اس مسجد میںپہلی بار داخل ہوئے تھے اور جس چیز پر غلبہ پائیں اسے بالکل تباہ وبرباد کردیں تو ہم نے اپنی اس پیشگوئی کو بھی پورا کردیا مگر اب بھی کچھ بعید نہیں کہ تمہارا رب تم پر رحم کردے۔لیکن اگر تم پھر اپنے ا س رویہ کی طرف لوٹے تو ہم بھی اپنے عذاب کی طرف لوٹیں گے۔اور یقیناً ہم نے جہنم کوکافروں کے لئے قید خانہ بنایا ہے۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا کہ فلسطین کا ملک خدا تعالیٰ کے نیک بندوں کو ملے گا اور چونکہ پہلے یہود سے یہ وعدہ کیا گیا۔اس لئے ان کو یہ ملک ملا۔مگر ملک دیتے وقت خدا تعالیٰ نے کچھ شرائط بھی عائد کردیں۔اور فرمایا کہ کچھ عرصہ کے بعد تمہاری شرارتوں کی وجہ سے ہم یہ ملک تم سے چھین لیں گے۔چنانچہ فرمایا فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ جب ان دو بار کے فسادوں میںسے پہلی بار کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آئے گا تو ہم اپنے حکم کے ساتھ ایک قوم کو مقرر کریںگے۔جو بڑی فوجی طاقت رکھتی ہوگی اور وہ فلسطین کے تمام شہروں میں گھس جائے گی اور تمہاری حکومت کوتباہ کردے گی مگر ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ