تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 107

قوموں میں پراگندہ کرے گا۔وہاں تو لکٹری اور پتھر کے اور معبودوں کی جن کو تو یا تیرے باپ دادے جانتے بھی نہیں پرستش کرے گا۔‘‘ (استثنا باب ۲۸آیت ۶۳ ،۶۴ ) مگر اس کے ساتھ ہی اللہ تعالی ٰنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ بھی خبر دے دی کہ ا س عذاب کے بعد بنی اسرائیل نے اپنے اندر تبدیلی پیدا کی تو ان پر پھر رحم کیاجائےگا۔چنانچہ فرمایا۔’’خداوند تیرا خداتیری اسیری کو پلٹ کر تجھ پر رحم کرےگا اور پھر کر تجھ کو سب قوموں میںسے جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو پراگندہ کیا ہو جمع کرے گا اگر تیرے آوارہ گروہ دنیا کے انتہائی حصوں میں بھی ہوں تو وہاں سے بھی خداوند تیر اخدا تجھ کو جمع کر کے لے آئےگا۔‘‘(استثناء باب ۳۰ آیت ۳ ،۴) گو یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ بنی اسرائیل کو یہ خبر دی گئی تھی کہ جب تمہاری شرارتیں بڑھ گئیں تو یہ ملک تم سے چھین لیاجائےگا۔مگر اس کے کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے گا اور یہ زمین پھر تمہارے سپرد کر دی جائے گی۔مگر اس کے بعد پھر دوبارہ ایک تباہی کی خبر دی گئی اور بتایا گیا کہ یہود پھرسرکش ہوجائیںگے اور پھر ان پر الٰہی عذاب نازل ہوگا اور وہ اس ملک سے نکال دیئے جائیںگے۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی بھی پیشگوئی کی۔اور فرمایا کہ ’’انہوں نے اجنبی معبودوں کے باعث غیرت اور مکروہات سے اسے غصہ دلایا۔۔۔۔۔۔خدا وند نے یہ دیکھ کر ان سے نفر ت کی کیونکہ اس کے بیٹوں اور بیٹیوںنے اسے غصہ دلایا (اس جگہ تمام یہودی مردوں اور عورتوں کو خدا تعالیٰ کے بیٹے او ربیٹیاں قرار دیا گیا ہے )تب اس نے کہا۔میں اپنا منہ ان سے چھپالوںگا۔اور دیکھو ںگا کہ ان کاانجام کیسا ہوگا کیونکہ وہ گردن کش نسل اور بے وفا اولاد ہیں۔۔۔میں ان پرآفتوں کاڈھیر لگائوںگا اور اپنے تیروں کو ان پر ختم کروںگا وہ بھوک کے مارے گھل جائیں گے اور شدید حرارت اور سخت ہلاکت کالقمہ ہوجائیںگے اور میں ان پردرندوں کے دانت اور زمین پرکے سرکنے والے کیڑوں کازہر چھوڑ دوںگا باہر وہ تلوار سے مریںگے اور کوٹھڑیوں کے اندر خوف سے جواں مرد اور کنواریاں دودھ پیتے بچے اور پکے بال والے سب یوں ہی ہلاک ہوںگے۔‘‘ (استثنا باب ۳۲ آیت ۱۶ تا ۲۵ ) غرض حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ بنی اسرائیل کو دوتباہیوں کی خبردی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ اس ملک پرتمہارا قبضہ دائمی نہیںہوگا۔بلکہ پہلے تمہاراقبضہ ہوگا اور پھر تم نکالے جائوگے۔پھر تمہارا قبضہ ہوگا اور پھر تم نکالے