تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 109

کچھ مدت کے بعد یہ ملک ہم تم کو واپس دے دیںگے اور تمہاری طاقت اور قوت کو بحال کردیںگے۔وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِيْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا اور ہم تم کو مال بھی دیںگے اور بیٹے بھی دیںگے اور تمہیں تعداد میںبھی بہت بڑھا دیںگے لیکن پھر ایک وقت کے بعد ہم دوبارہ یہ ملک تم سے چھین لیںگے چنانچہ فرمایا فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًا جب وہ دوسراوعدہ پوراہونے کا وقت آئے گا تو اس لئے کہ وہ لوگ جن کو عارضی طور ہم یہ ملک دینے والے ہیں وہ تمہارے منہ خوب کالے کریں اور جس طرح پہلی دفعہ انہوں نے تمہاری عبادت گاہ کی بے حرمتی کی تھی اسی طرح اس دفعہ بھی اس کو ذلیل کریں۔یہ دشمن پھر تمہارے ملک میںجاگھسے گا۔اور تمہاری عبادت گاہ کو ذلیل کرے گا۔اور جس جس علاقہ میں جائے گا تباہی مچاتا چلا جائے گا۔مگر فرمایا عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ کچھ بعید نہیں کہ اب بھی تمہارا رب تم پر رحم کردے یعنی اس کے بعد پھرہم یہ فیصلہ کریںگے۔کہ یہ ملک واپس دے دیا جائے مگر یہاں یہ نہیںفرمایا کہ وہ یہودیوں کو دیاجائے گا بلکہ فرمایا۔عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ خداتم پر رحم کرے گا یعنی اس بدنامی کو دور کردے گا۔جو تمہاری دنیا میںہوئی۔وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا اور اگر تم اپنی شرارتوں سے پھر بھی باز نہ آئے تو ہم بھی اپنی اسی سنت کی طرف لوٹیں گے۔اور پھریہ ملک تم سے چھین لیں گے۔وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ حَصِيْرًا اور جہنم کو ہم تمہارے لئے قیدخانہ بنا دیںگے یعنی پھرتم اس ملک میںواپس نہیںآسکو گے۔چنانچہ دیکھ لو خدا تعالیٰ نے کہاتھا کہ یہ ملک کچھ عرصہ تمہارے پاس رہے گا مگر اس کے بعد چھینا جائے گا چنانچہ بابلی فوجیں آئیں اور انہوں نے عبادت گاہیں بھی تباہ کیں ،شہر بھی تباہ کئے اور سارے ملک پر قبضہ کرلیا او رقریباً ڈیڑھ سوسال تک حکومت کی(۲سلاطین باب ۲۴ آیت ۱۰ تا ۱۷،۲ تواریخ باب ۳۶ آیت ۲۰،۲۱،جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ Nebuchadenezzar) اس کے بعد وہ حکومت بدل گئی اور پھر یہودی اپنے ملک پر قابض ہوگئے۔پھر مسیح ؑکے بعد رومی لوگوں نے اس ملک پر حملہ کیا اور اس کو تباہ وبرباد کیا۔اسی طرح مسجد کو تباہ کیااور اس کے اندر سؤر کی قربانی کی اور اس پر ان کا لمبے عرصہ تک قبضہ رہا۔لیکن آخر رومی بادشاہ عیسائی ہوگیا۔اس لئے یہاں یہ نہیںفرمایا تھاکہ یہودیوںکو یہ ملک واپس کیا جائے گا بلکہ فرمایا تھا کہ پھرہم تم پر رحم کریںگے۔یعنی تمہاری وہ بے عزتی دور ہوجائے گی چنانچہ جب رومی بادشاہ عیسائی ہوگیاتو پھر وہ موسیٰ ؑکو بھی ماننے لگ گیا۔دائود ؑ کو بھی ماننے لگ گیا۔اسی طرح باقی جس قدر انبیا ء تھے ان کو بھی ماننے لگ گیاتھا۔وہ عیسیٰ ؑکو ماننے والا لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی چونکہ موسوی سلسلے سے تعلق رکھتے تھے۔عیسائی بادشاہت یہودی نبیوںکاادب کرتی تھی۔