تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 106
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت ہیں۔پس مایوس نہیں ہوناچاہیے جب دوبارہ رحمت الٰہی جوش میں آجائےگی مسلمان دوبارہ فلسطین میں غالب آجائیںگے۔اس آیت میںزبور کی جس پیشگوئی کی طرف اشارہ کیاگیا ہے اس کا ذکر زبور باب ۳۷ میں آتا ہے اس میںلکھا ہے۔’’ تو بد کردارں کے سبب سے بیزار نہ ہو۔اور بدی کرنے والوں پر رشک نہ کر کیونکہ وہ گھاس کی طرح جلد کاٹ ڈالے جائیںگے۔اور سبزہ کی طرح مرجھا جائیں گے۔خداوند پر توکل کر اور نیکی کر ملک میں آباد رہ اوراس کی وفاداری سے پرورش پا خداوند میںمسرور رہ۔اور وہ تیرے دل کی مرادیں پوری کرے گا۔اپنی راہ خداوند پر چھوڑ دے اور اس پر توکل کر وہی سب کچھ کرے گا۔وہ تیری راست بازی کو نور کی طر ح اورتیرے حق کو دوپہر کی طرح روشن کرے گا۔خداوند میں مطمئن رہ اور صبر سے اس کی آس رکھ اس آدمی کے سبب سے جو اپنی راہ میں کامیاب ہوتا اور برے منصوبوں کو انجام دیتاہے۔بیزار نہ ہو۔قہر سے باز آاور غضب کو چھوڑ دے۔بیزار نہ ہو۔اس سے برائی ہی نکلتی ہے کیونکہ بد کردار کاٹ ڈالے جائیںگے۔لیکن جن کو خداوند کی آس ہے ملک کے وارث ہوںگے۔کیونکہ تھوڑی دیر میں شریر نابود ہوجائے گا۔تو اس کی جگہ کو غور سے دیکھے گا۔پروہ نہ ہوگا لیکن حلیم ملک کے وارث ہوںگے۔اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہیںگے۔‘‘ (زبور باب۳۷ آیت ا تا ۱۱) اسی طرح زبور باب ۳۷ آیت ۲۹ میں لکھا ہے۔’’ صادق زمین کے وارث ہوںگے اور اس میںہمیشہ بسے رہیں گے۔‘‘ مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وعدہ ارض مقدس کے متعلق بنی اسرائیل سے کیا گیا تھا۔یہ کوئی غیر مشروط وعدہ نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ نیکی اور تقویٰ اور صلاحیت کی شرط لگائی گئی تھی اور انہیںکھلے طور پر بتادیاگیاتھا کہ اگر تم نے شرارتوں پر کمر باندھ لی اور بد کرداریوں کو اپنا شیوہ بنالیا تو یہ ملک تم سے چھین لیا جائے گا۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم میںسرکشی پیدا ہوگئی تو ’’جیسے تمہارے ساتھ بھلائی کرنے اور تم کو بڑھانے سے خداوند خوشنود ہو ا ایسے ہی تم کو فنا کرانے اور ہلاک کرڈالنے سے خداوند خوشنود ہوگا۔اور تم اس ملک سے اکھاڑ دیے جائو گے۔جہاں تو اس پر قبضہ کرنے کو جارہا ہے۔اور خداوند تجھ کو زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تمام