تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 105

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ اور ہم نے زبور میں کچھ نصیحتیں کرنے کے بعد یہ لکھ چھوڑا ہے کہ ارض( مقدس) کے وارث يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ۰۰۱۰۶اِنَّ فِيْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ میرے نیک بندے ہوںگے۔اس( مضمون) میں ایک پیغام ہے اس قوم کے لئے جو عبادت گذار ہے۔عٰبِدِيْنَؕ۰۰۱۰۷وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ۰۰۱۰۸ اور ہم نے تجھے دنیا کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔حلّ لُغَات۔بَلَاغٌ بَلَاغٌ کے معنے ہیں اَلْاِ نْتِھَاءُ اِلی اَقْصَی الْمَقْصَدِ وَالْمُنْتَھٰی اپنے مقصد اور مدعا کی انتہا ئی حد تک پہنچنا۔نیز اس کے معنے ہیں اَلتَّبْلِیْغُ پہنچانا اسی طرح اس کے معنے اَلْکِفَایَۃُ کے بھی ہیں یعنی کافی ہونا۔(مفردات) تفسیر۔فرماتا ہے ہم نے زبور میں کچھ شرائط بیان کرنے کے بعد یہ بات لکھ چھوڑی ہے کہ ارض مقدس کے وارث ہمارے نیک بندے ہوںگے اس میںعبادت گذار بندوں کے لئے ایک پیغام ہے اور ہم نے تجھ کو ساری دنیا کی طرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔مطلب یہ ہے کہ بائیبل میں جو یہ پیشگوئی تھی کہ صرف خدا کے نیک بندے ارض مقدس میں رہیں گے اس سے کوئی اس وقت دھوکا نہ کھائے جبکہ بنی اسرائیل اس ملک پر غالب آجائیں گے۔کیونکہ اس پیشگوئی میںاس طرف بھی اشارہ تھاکہ اگر کوئی وقفہ پڑا تو پھر خدا کے بندے اس ملک پر غالب آجائیںگے اس لئے فرماتا ہے کہ عبادت گذار بندوں کے لئے اس میں ایک پیغام ہے یعنی مسلمانوں کو تو ہوشیا ر کردے کہ ایک وقت ایسا آئےگا کہ پھر بنی اسرائیل اس پر قابض ہو جائیںگے اس لئے یہاں عابدین کا لفظ دائود ؑ کی پیشگوئی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال کیا اور بتایا کہ میرے بندوں کو کہہ دے کہ ہوشیار ہوجائو۔اگر کسی وقت تم نے میرے عباد بننے میںکمزوری دکھائی تو پھر اللہ تعالیٰ یہودیوں کو اس ملک میںواپس لے آئے گا لیکن مسلمانوں کو چاہیے کہ پھر عبادت گذار بن جائیں۔اس کے نتیجہ میں وہ پھر غالب آجائیںگے اور ان کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب زمانوں کے لئے رحمت ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ اس وقت ختم نہیں ہوجاتا جب بنی اسرائیل فلسطین پرقابض ہوں۔بلکہ اس کے بعد بھی وہ زمانہ ہے جس کے لئے