تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 584 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 584

ہیںاور اسلام نے بھی زکوٰۃ اور صدقات پر خصوصیت سے زور دیاہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ زکوٰۃ یا صدقہ میں اپنے اموال خرچ کرتے ہیں انکا مال کم نہیںہوتابلکہ ہمیشہ بڑھتاہے۔اور اس کافائدہ خود لوگوں کو ہی پہنچتاہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَاۤ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ (الروم:۴۰) یعنی جولوگ اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں۔وہی اپنے مالوں کو بڑھانے والے ہوتے۔پس چندے لینا یاصدقہ و زکوٰۃ وغیرہ اس آیت کے خلاف نہیں۔وَ قَالُوْا لَوْ لَا يَاْتِيْنَا بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ اور وہ کہتے ہیںکہ کیوں وہ ہمارے پاس اپنے رب کی طرف سے کوئی نشان نہیں لاتا۔کیا ان کے پاس ویسا بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى ۰۰۱۳۴ نشان نہیںآیاجیساکہ پہلی کتابوں میں بیان ہوچکا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے نشان جادوگری کا نام نہیں بلکہ پہلے انبیاء کی پیشگوئیاں بھی نشان ہوتی ہیںاور محمدؐ رسول اللہ کے حق میںپہلے انبیا ء کی پیشگوئیاں موجود ہیں۔پھر یہ کیوں ایمان نہیںلاتے۔اگر محمدؐ رسول اللہ نہ آتے تو ان کا اعتراض ہوتا کہ ہماری طرف تو کوئی نبی آیا ہی نہیں ور نہ ہم مان لیتے لیکن نبی آگیا ہے اس لئے اب سزاکا انتظار کرنے کے سوا ان کے لئے کوئی چارہ نہیں آخر میں حق کھل جائے گامگر اس وقت ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیںہوگا۔وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اور اگر ہم ان کو اس( رسول) سے پہلے کسی عذاب کے ذریعہ سے ہلاک کردیتے تو وہ کہتے اے ہمارے رب اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا (اگر تو ایسا کرتا) توہم تیرے نشانون کے پیچھے چل پڑتے قبل اس کے