تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 583
لِنَفْتِنَھُمْ نَفْتِنُ فَتَنَ سے بنا ہے اور فَتَنَہٗ کے معنے ہیںخَبَرَہٗ۔اس کی آزمائش کی نیز اس کے معنے ہیں اَضَلَّہٗ۔اس کو گمراہ کیا اسی طرح جب یہ کہیںکہ فَتَنَ الصَّائِغُ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ تومعنے ہوتے ہیںاَذَابَہٗ بِالْبُوْتَقَۃِ وَ اَحْرَقَہٗ بِالنَّارِ لِیُبَیِّنَ الْجَیِّدُ مِنَ الرَّدِیْءِ وَ یُعْلَمَ اَنَّہُ خَالِصٌ اَوْ مَشُوْبٌ (اقرب)یعنی جب سنار کے لئے فتن کا لفظ استعمال ہو تو معنے یہ ہوتے ہیںکہ اس نے سونے کو آگ میں ڈال کر اس پر آگ تپائی تاکہ سونا پگھل جائے اور خالص سونا علیحدہ ہوجائے اور کھوٹ علیحدہ ہوجائے پس لِنَفْتِنَهُمْ کے معنے ہوںگے (۱)ہم معلوم کرلیں (۲)ہم اچھے اور برے کی تمیز کردیں۔تفسیر۔انسان بعض دفعہ دوسرے کی دولت دیکھ کر لالچ میںآجاتاہے اور چاہتا ہے کہ وہ دولت اس کو مل جائے لیکن اس آیت میںبتایاگیا ہے کہ جب یوروپین قومیںترقی کریں اور بہت دولت سمیٹ لیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کی دولت دیکھ دیکھ کر لالچ میں نہ آئیںکیونکہ یہی دولت آخر ان کی تباہی کا موجب ہوگی جیسا کہ موجودہ زمانہ میںہورہاہے کہ یورپ اور امریکہ کی دولت کو دیکھ کر روس کے منہ میں پانی بھر آیا اور اس نے بھی ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم ایجاد کرلئے تاکہ ان کی مدد سے مغربی ممالک کی دولت چھین لے۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے فرما تاہے کہ تم اپنی دولت خداکے ہاں جمع کر و۔کیونکہ جو دولت خداکے ہاں جمع ہوتی ہے اسے کوئی چھین نہیں سکتا۔اور وہ بہتر بھی ہوتی ہے اور ہمیشہ قائم بھی رہتی ہے۔وَ أْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَيْهَا١ؕ لَا نَسْـَٔلُكَ اور تو اپنے اہل کو نماز کی تاکید کرتارہ۔اور تو خود بھی اس حکم یعنی نماز پرقائم رہ ہم تجھ سے رزق نہیں مانگتے بلکہ ہم رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى ۰۰۱۳۳ تجھے رزق دے رہے ہیںاور انجام تقوٰی ہی کابہتر ہوتاہے۔تفسیر۔فرماتا ہے کہ یہ قانون قدرت ہے کہ بچے ماں باپ کے پیچھے چلتے ہیںاس لئے عیسائیوں کی ترقی کے زمانہ میںہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنی اولاد کونماز کی تاکید کرتارہے اور خود بھی نمازوں کا پابند رہے تاکہ اس کی اولاد بھی اسی رنگ میںرنگین ہو کیونکہ جو شخص عبادت پر قائم رہتاہے اللہ تعالیٰ اس کو ضرو ر حلال رزق دیتاہے اور اس سے رزق مانگتانہیں۔بظاہر یہ بات غلط معلوم ہوتی ہے کیونکہ تمام انبیاء دین کی خدمت کے لئے چندے مانگتے چلے آئے