تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 585 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 585

نَخْزٰى۰۰۱۳۵ کہ ہم ذلیل اور رسواہوجاتے۔تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ بنی نو ع انسان کی تو جہ اس امر کی طرف منعطف کرتا ہے کہ اگر رسول کی بعثت سے پہلے ہم ان پر عذاب نازل کردیتے تو یہ لوگ ہم پر اعتراض کرتے کہ جب ہم گمراہ تھے اور ہدایت کے محتاج تھے تو تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے ہی تیرے احکام کو قبول کرلیتے اللہ تعالیٰ ان کے اس اعتراض کو رد نہیںکرتا۔بلکہ اسے تسلیم کرتاہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کی ہدایت کے لئے انبیا ء ورسل کی بعثت کا انتظام نہ ہوتا تو بندوںکا حق تھا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرتے کہ جب اس نے ان کے پاس کوئی ہادی ہی نہیں بھیجے تو وہ ان سے جواب طلبی کیوں کرتاہے افسوس ہے کہ اس زمانہ میںمسلمانوں نے بھی یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ دنیا میںخواہ کتنی گمراہی پھیل جائے اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کے لئے کسی مامور کو مبعوث نہیں کر سکتا۔حالانکہ اللہ تعالیٰ ان آیات میں اسی بات کی تردید کرتاہے اور فرماتا ہے کہ اگر ہم دنیامیںاپنے مامور نہ بھیجیں تو لوگ بجا طور پر یہ اعتراض کر سکتے ہیں کہ جب اس نے ہدایت کا کوئی سامان ہی نہیں کیا تو وہ انہیں عذاب کیوں دیتاہے گویا مسلمان اپنے عمل سےاس اعتراض کو تقویت دے رہے ہیں جس اعتراض کو مٹانے کے لئے اس کی طرف سے ہمیشہ مامورین آتے رہے ہیں۔قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ۠ مَنْ اَصْحٰبُ تو کہہ دے ہر ایک شخص اپنے انجام کی انتظار میںہے پس تم بھی اپنے انجام کاانتظار کرتے رہو۔اور تم جلدی الصِّرَاطِ السَّوِيِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى ؒ۰۰۱۳۶ ہی معلوم کرلو گے کہ کون شخص سیدھے راستہ پر چلنے والوں اور ہدایت پانے والوں میں سے ہے اور کون نہیں تفسیر۔اس جگہ سیدھے راستہ کے لئے سَوِیٌّ کا لفظ استعمال کیاگیاہے۔جس کے معنے ایسے راستہ کے ہیںجو افراط اور تفریط سے منزہ ہو (مفردات ) اسی طرح سَوِیٌّ کا لفظ کامل اور مضبوط کے معنوں میں بھی استعمال ہوتاہے ( لسان ا لعرب )۔پس اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تمہیں جلدی پتہ لگ جائےگا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم