تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 550
جاتاہے کہ مصریوں میں اس قسم کی کرتب بازی کا رواج تھا اور وہ مکینیکل کھلونے بنایا کرتے تھے۔اصل بات یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم مصر سے آرہی تھی اورفرعون کی قوم میںبیل کی پوجاکاعام رواج تھابلکہ سب سے بڑامندر مصر کاوہی تھاجس میںایک بے عیب بیل بطور دیوتاکے رکھاجاتاتھا۔چنانچہ انسائیلوپیڈیاآف ریلیجن اینڈ ایتھکس جلد ۱ صفحہ ۵۰۷(زیر لفظ Animal)میںلکھا ہے کہ مصریوںمیںجانور کی پوجاکرنےکا جورواج تھاا س میں سب سے اہم مقام بیل کو حاصل تھاجب کوئی پرانا بیل مرجاتاتھا تو ایک نئے بیل کی تلاش کی جاتی تھی۔اور جس گلّے میںسے یہ بیل ملتا تھا اس کے مالک کو بڑی عزت دی جاتی تھی اور جو شخص اس کو تلاش کرتاتھا اس کو بھی بہت بڑاانعام دیاجاتاتھا۔اسی طرح نیو سٹنڈرڈ ڈکشنری میں ایپسؔ کے لفظ کے نیچے لکھا ہے کہ یہ ایک مقدس بیل ہوتاتھا۔جس کی مصری لوگ قدیم زمانہ میںپوجاکرتے تھے اس کی پیدائش کے دن کو ایک عام چھٹی کے طورپر ملک میں منایا جاتاتھا۔اور اس کی موت پر تمام ملک میں ماتم کیا جاتاتھا۔اور یہ ماتم اس وقت تک جاری رہتا تھا جب تک کہ ایک نیا ایپسؔ ان علامتوںکے مطابق نہ مل جاتاجن سے اس کے خدا کے مظہر ہونے کاثبوت حاصل ہوجاتا(نیو اسٹینڈرڈ ڈکشنری زیر لفظ Apis)۔غرض فرعون کی قوم چونکہ بیل کی پرستش کی عادی تھی۔اس لئے محکوم قوم ہونے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں بھی مشرکانہ خیالات پیدا ہوگئے اور موسیٰ ؑ کی غیرحاضری سے فائدہ اٹھاکر سامری نے انہیںپھر شرک کے راستہ پرڈال دیا اور وہ بچھڑے کوبڑے ادب کی نگاہ سے دیکھنے لگ گئے۔سامری جو درحقیقت دل سے کافر انسان تھااس نے قوم کی اس کمزوری ء ایمان سے فائدہ اٹھایا اوران سے کہا کہ اپنے زیورات لائو اورمیں بھی اپنا سونا ڈالتاہوں اس سے میں فرعونیوں کی طرح کا ایک بچھڑا تمہیں بنادوںگا۔وہ سامری کی یہ بات سن کر خوش ہوگئے۔کیونکہ بچھڑے کاادب فرعونیوں سے ا ن کو ورثہ کے طورپر ملاتھا۔جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے کہ مصر کا بڑابت بچھڑاہی ہوتا تھا۔اور تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ زمیندار ملکوں میں عام طور پر گائے کوخدا سمجھا جاتا تھا۔چنا نچہ ہندوستان میں سب ہندو گائے کوخداسمجھتے ہیںاور ایک گائے کے ذبح کرنے پر ہزاروں مسلمانوں کا قتل جائز اور درست جانتے ہیں۔بلکہ ہندوئوں کے کئی مندر ایسے ہیں جن میں گائے یا بچھڑ ے کی شکل پر بت بنایا جاتاہے اس کی یہی وجہ ہے کہ وہ گائے کو ایک جانور نہیں بلکہ دیوتا سمجھتے ہیں (انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس زیر لفظ Animal)۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سامری نے جو بچھڑابنایاتھا اس میں ایسی ترکیب رکھی تھی کہ اس میں سے ایک بے معنے آواز نکلتی تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح سیٹیاں بنائی جاتی ہیںسامری نے بچھڑااسی طرح بنایا تھا۔کہ اگر پیچھے سے