تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 551

ہواداخل ہو تو منہ کی طرف سے آواز نکلتی تھی۔بے وقوف یہودی جو قوم فرعون کے غلام تھے اور اس کے دین سے متاثر وہ اس دھوکا میںآگئے اور انہو ںنے سمجھاکہ موسیٰ ؑ جو کہتا تھاکہ مجھ سے خداکلام کرتاہے تو درحقیقت اس کے پاس کوئی ایسا ہی بچھڑاتھا جس کی بات سے وہ فال نکال لیا کرتاتھا۔وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ يٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ اور ہارون نے (موسیٰ کےواپس آنے سے بھی) پہلے ان سے کہہ دیا تھا کہ اے قوم تم کو اس (بچھڑے) کے ذریعہ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ وَ اَطِيْعُوْۤا اَمْرِيْ۰۰۹۱ آزمائش میںڈالا گیا ہے اور تمہارا رب تو رحمٰن( خدا)ہے پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کو مانو (اور شرک نہ کرو) قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عٰكِفِيْنَ حَتّٰى يَرْجِعَ اِلَيْنَا (مگر اس ضدی قوم نے) کہا جب تک موسیٰ ہماری طرف واپس نہ آئے ہم برابر اس کی عبادت میں مشغول رہیں گے۔مُوْسٰى۰۰۹۲قَالَ يٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَيْتَهُمْ (جب موسیٰ واپس آئے تو انہوںنےہارون سے) کہااے ہارون جب تو نے اپنی قوم کوگمراہ ہوتے دیکھا تھا تو ضَلُّوْۤاۙ۰۰۹۳اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيْتَ اَمْرِيْ۰۰۹۴ تجھے کس نے منع کیا تھا کہ تو میرے نقش قدم پر نہ چلے ؟کیا تو نے میرے حکم کی نافرمانی کی۔تفسیر۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضر ت ہارون علیہ السلام شرک میں شامل نہیںتھے بلکہ انہوں نے اپنی قوم کوشرک سے سختی کے ساتھ روکا تھا لیکن بائیبل کہتی ہے کہ وہ شرک میںشامل تھے چنانچہ تورات میں لکھا ہے۔’’ اور جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ نے پہاڑ سے اتر نے میں دیر لگائی تو وہ ہارون کے پاس جمع ہوکر اس سے کہنے لگے کہ کہ اٹھ ہمارے لئے دیوتابنا دے جو ہمارے آگے آگے چلے کیونکہ ہم نہیںجانتے کہ اس مرد موسیٰ کو جو ہم کو ملک مصر سے نکال کر لایا کیاہو گیا۔ہارون نے ان سے کہا تمہاری بیویوں اور لڑکوں او رلڑکیوںکے کانوں میں جو سونے کی بالیاں ہیں ان کو اتار کر میرے پاس