تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 549
ہے کہ انہوں نے خود ان کو زیورات دیئے تاکہ وہ عبادت کے لئے باہر جائیں اوران کا عذاب ٹل جائے۔اور یہی بات قرآن کریم نے بیان کی ہے بلکہ ممکن ہے سامری نے بھی ان لوگوںسے یہی کہا ہو کہ اگر یہ لوگ باہر نکلیں گے تومیں ان کے لئے سونےکا بچھڑابنا دوںگا اور ان سے اس کی پوجا کروائوں گا اور یہ لوگ تمہارے مذہب میں واپس آجائیں گے۔فَقَذَفْنٰهَا سے ظاہر ہوتاہے کہ ان لوگوں نے ان زیورات سے نفرت کرکے اسے پھینک دیا تھا مگر سامری نے اس سے بچھڑا تیار کرلیا اور بچھڑابھی ایسا جو بولتاتھا۔چونکہ وہ مصرمیں بچھڑے کی پرستش ہوتی دیکھ آئے تھے اور فرعون بھی اس کے آگے سجدہ کرتاتھا۔اس لئے ان کے خیال میں اس سے زیادہ اعلیٰ چیز اور کیا ہوسکتی تھی پس وہ کہتے ہیں کہ ایک تو بچھڑا دوسرا سونے کا اور تیسرابولنے والا اس کے بعد بھی اگر ہم اس کی عبادت نہ کرتے توکیا کرتے۔گویا وہ اپنی مجبوری کا اظہار کررہے ہیں۔اور موسیٰ ؑسے کہتے ہیں کہ آپ ہماری بھی تو مجبوری دیکھیںاگر اتنی باتوںکے بعد بھی ہم اس کی پرستش نہ کرتے توکیا کرتے۔ان کی یہ مجبوری بالکل ویسی ہی تھی جیسا کہ استاذی المکرم حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ فرمایا کرتے تھے کہ ایک مولوی کے متعلق مجھے معلوم ہوا کہ اس نے ایک شادی شدہ عورت کاکسی دوسرے مرد سے نکا ح پڑھ دیاہے۔فرماتے تھے مجھے اس سے سخت حیرت ہوئی اور میں نے اس مولوی کو بلواکر کہا کہ مولوی صاحب میں نے آپ کے متعلق ایک بات سنی ہے۔مجھے اعتبار تونہیںآتاکہ وہ درست ہو مگر چونکہ میرے پاس اس کا ذکر کیا گیاہے اس لئے آپ سے بھی میں بیان کردیناچاہتاہوں میں نے سناہے کہ آپ نے ایک عورت کانکاح پرنکاح پڑھ دیاہے۔وہ سن کر بڑے جوش سے کہنے لگا۔مولوی صاحب آپ پہلے تحقیق تو کرلیا کریں۔یونہی سنی سنائی باتوں میں نہ آ جایا کریں۔یہ بھی تو دیکھیں کہ میری مجبوری کیا تھی آپ نے فرمایا اسی لئے تو میں نے آپ کو بلوایا ہے تاکہ آپ سے سارے حالات کاعلم ہوجائے۔وہ کہنے لگا مولوی صاحب دوسرے فریق نے جب چڑے جتنا روپیہ نکال کر میرے سامنے رکھ دیا تو پھر میں نکاح نہ پڑھتاتو او رکیا کرتا یہی مثال موسیٰ ؑکی قوم کی ہے وہ کہتے ہیںہم نے تیرے عہد کو اپنی مرضی سے نہیں ٹلایا۔ہم تو اس پر مجبور کردیئے گئے تھے اور وہ مجبوری یہ تھی کہ فرعون کی قوم کے زیورات کاجوبوجھ ہم پر لاد دیا گیا تھا۔وہ ہم نے پھینک دیا اور اسی طر ح سامری نے بھی اس کوپھینک دیا مگر اس کے بعد سامری نے انہی زیورات کو ڈھال کر ایک عجیب وغریب بچھڑاتیار کردیا جس میںسے آواز بھی نکلتی تھی اب بتائیے ہم اس کی کس طرح پرستش نہ کرتے۔اس بچھڑے کو دیکھنے کے بعد ہمارے لئے انکار کی کوئی صورت ہی نہ رہی۔سامری کا یہ واقعہ ساحروں کے واقعہ کی حقیقت بھی کھول دیتاہے اور اس سے یہ پتہ لگ