تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 548
وعدے کو اپنی مرضی سے نہیںجھٹلایا بلکہ فرعون کی قوم کے زیورات چلتے ہوئے ہم پر لاددیئے گئے تھے تیرے جانے کے بعد وہ زیورات ہم نے اٹھا کر ایک جگہ رکھ دیئے اور سامری نے بھی ایسا ہی کیا۔پھر اس نے ان زیورات کو پگھلاکر ایک بے جان بچھڑابنا دیا جس میں سے ایک بے معنے آواز نکلتی تھی۔جس پر موسیٰ ؑکی سب قوم بول اٹھی کہ اے لوگو !یہ تمہارامعبود ہے۔اور موسیٰ کا بھی یہی معبود تھا۔جو پہاڑ پرجانے کے شوق میں اسے بھول گیا۔حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِيْنَةِ الْقَوْمِ سے معلوم ہوتاہے کہ یہ زیورات مصریوں نے خود دیے تھے مگربائیبل کہتی ہے کہ بنی اسرائیل نے مصریوں سے سونے چاندی کے برتن عاریۃً لئے اور ان کو خوب لُوٹا اور وہ بھی دیتے چلے گئے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ وہ یہاں سے نکل جائیںتاکہ ان کے سبب سے وہ ہلاک نہ ہوجائیں۔چنانچہ خروج باب ۱۲ آیت ۳۵۔۳۶ میں لکھاہے۔’’ او ر بنی اسرائیل نے موسیٰ کے کہنے کے موافق یہ بھی کیا کہ مصریوں سے سونے چاندی کے زیور اور کپڑے مانگ لئے اور خداوند نے ان لوگوں کو مصریوں کی نگاہ میں ایسی عزت بخشی کہ جو کچھ انہوںنے مانگا انہوں نے دے دیا سو انہوں نے مصریوں کو لوٹ لیا۔‘‘ گویابائیبل حضرت موسیٰ علیہ السلام پر یہ الزام لگاتی ہے کہ ان کے کہنے کے مطابق بنی اسرائیل نے مصریوں سے سونے چاندی کے زیورات اور کپڑے مانگ لئے اور انہوں نے مصریوں کو خوب لُوٹا۔لیکن قرآن کریم اس کی تردید کرتاہے اور فرماتا ہے کہ انہوں نے وہ زیورات نہیںمانگے بلکہ مصریوں نے آپ ان کو دئیے۔اور انسانی عقل اس کی تائید کرتی ہے کیونکہ نبی ڈاکو نہیںہوتامگربائیبل ایک طرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خدا کانبی قرار دیتی ہے اور دوسری طرف انہیںڈاکو ثابت کرتی ہے۔حالانکہ خودبائیبل کی ایک اندرونی شہادت بتارہی ہے کہ موسیٰ ؑپر یہ الزام سراسر غلط ہے۔چنانچہ گوبائیبل نے یہ کہاہے کہ بنی اسرائیل نے مصریوں سے خداکے حکم سے زیورات مانگے مگر خروج باب ۱۲ میں ہی لکھا ہے کہ جب مصریوں پر عذاب آیا اورسارے مصر میں پلوٹھے بچوں کی ہلاکت سے ایک کہرام مچ گیا تو فرعون نے موسیٰ اور ہارون کو بلواکر کہا کہ تم بنی اسرائیل کو لے کر میری قوم کے لوگوں میں سے نکل جائو اور ’’مصری ان لوگوںسے بضد ہونے لگے (یعنی ان کے پیچھے پڑگئے) تاکہ ان کو ملک مصر سے جلد باہر چلتاکریںکیونکہ وہ سمجھے کہ ہم سب مر جائیںگے۔‘‘ (خروج باب ۱۲ آیت ۳۳) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ مصر ی خود دل سے چاہتے تھے کہ وہ لوگ مصر سے نکل جائیں پس قرین قیاس یہی