تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 547

مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِيْ۰۰۸۷قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا سو تم نے میرے وعدے کو رد کردیا انہوں نے کہا ہم نے تیرے وعدہ کو اپنی مرضی سے رد نہیںکیا۔مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِيْنَةِ بلکہ (فرعون کی) قوم کے زیورات کا جو بوجھ ہم پر لاددیا گیاتھا اس کو ہم نے پھینک دیا۔اور اسی طرح سامری الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِيُّۙ۰۰۸۸ نے بھی اس کوپھینک دیاپھر اس نے ان کے لئے (یعنی ہمارے لئے) ایک بچھڑا تیار کیا جومحض جسم ہی تھا فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اس سے ایک بے معنی آواز نکلتی تھی (یعنی حقیقی بچھڑا نہیںتھا) پھر( اس نے اور اس کے ساتھیوں نے) کہا کہ یہ تمہارا بھی اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِيَؕ۰۰۸۹اَفَلَا يَرَوْنَ اَلَّا يَرْجِعُ اور موسیٰ کابھی خدا ہے اور وہ اسے بھول (کر پیچھے چھوڑ )گیاہے۔(بیشک سامری اور اس کے ساتھیوں نے ایسا کیا) اِلَيْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًاؒ۰۰۹۰ مگر کیا وہخود نہیںدیکھتے تھے کہ وہ( بچھڑا )ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا۔اور نہ ان کو کوئی ضرر پہنچاسکتاہے اور نہ نفع پہنچاسکتاہے تفسیر۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم کو تو ہماری ملاقات کا اتناشوق ہے مگر تمہاری قوم کا یہ حال ہے کہ ادھر تم ہماری طرف آئے اور ادھر وہ سامری کے بہکانے سے بہک گئی اس پر موسیٰ غصہ اور افسوس کی حالت میں واپس لوٹے اور اپنی قوم سے کہا کہ کیا تمہار ے رب نے نہایت اعلیٰ اور شاندار وعدہ تم سے نہیںکیا تھا۔یعنی تمہارے نبی کوہم کلام ہونے کے لئے نہیںبلایا تھا۔کیا تم اتنے بے ایمان ہو کہ اتنی تھوڑی سی دیر میں تمہارا ایمان ضائع ہوگیایاتم کو اپنے رب کے غضب کے نازل ہونے کی خواہش ہے۔جس کی وجہ سے اتنے تھوڑے عرصہ میں ہی تم خدا کو بھول گئے اور میری اطاعت کا جو تم نے اقرار کیا تھا اس کی تم نے خلاف ورزی شروع کردی۔انہوں نے کہا ہم نے تیرے