تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 546
وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ يٰمُوْسٰى۰۰۸۴قَالَ هُمْ اُولَآءِ (اور ہم نے کہا) اے موسیٰ تم اپنی قوم کو چھوڑ کر کس لئے جلدی جلدی آگئے ہو ؟(موسیٰ نے جواب میں) کہا کہ وہ عَلٰۤى اَثَرِيْ وَ عَجِلْتُ اِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى۰۰۸۵ (لوگ)میرے پیچھے پیچھے آرہے ہیں اور اے میرے رب میںاس لئے تیرے پاس جلدی سے آیا ہوں تاکہ تو (میرے اس فعل پر) خوش ہوجائے۔تفسیر۔پاک لوگ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے کس طرح بیتاب رہتے ہیںاس کا ایک نمونہ ان آیات میں دکھائی دیتاہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے ایک وقت مقرر کیا تاکہ اس وقت میں ان سے کلام کرے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے آگے آگے تیزی کے ساتھ چلتے ہوئے وہاں پہنچے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ !تیز تیز کیوں چل رہے ہو ؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔حضور مجھ پر اظہار خوشنودی فرمانے والے تھے ایسے وقت میں میں تیزی سے آگے نہ بڑھتاتو کیا کرتا اور میری قوم تو میرے نقش قدم پر ہی چل رہی ہے اس لئے میراان کے ساتھ رہنا کوئی ضروری نہ تھا۔قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ ( اس پر اللہ تعالیٰ نے کہا) ہم نے تیری قوم کو تیرے بعد ایک آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے السَّامِرِيُّ۰۰۸۶فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ ان کو گمراہ کردیا ہے۔اس پر موسیٰ اپنی قوم کی طرف غصے سے بھرے ہوئے افسردہ لوٹ گئے قَالَ يٰقَوْمِ اَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ (اور اپنی قوم سے )کہا اے میری قوم ! کیا تمہارے رب نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیںکیا تھا؟ کیا اس وعدہ کے عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ يَّحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ پوراہونے میں کوئی دیر ہوگئی تھی ؟یا تم چاہتے تھے کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے کوئی غضب نازل ہو۔