تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 545

بھی بنائی جاتی تھیں کیونکہ وہ ایک چیز نہ تھی بلکہ کئی چیزوں کانام من تھا۔اور اس تشریح کو تسلیم کرکے کوئی خلاف عقل بات بھی تسلیم نہیںکرنی پڑتی کیونکہ تلیئر وغیرہ کی قسم کی چیزوںپر ایک ایسی قوم جس کااہم سیاسی اغراض کے لئے جنگل میں رہنا ضروری ہو گذارا کر سکتی ہے اور قرآن کریم کی بتائی ہوئی تعداد کے مطابق قوم کا اس جنگل میں آسانی سے بسراوقات کرسکنا ناممکنات میں سے نہیں ہے۔سلوٰ ی کے معنے بھی من کی طرح ایک عام ہیں اور ایک خاص۔اس کے عام معنے تو ہر اس چیز کے ہیں جو تسلی دینے والی ہو۔اور خاص معنوں کے لحاظ سے وہ ایک پرندے کابھی نام ہے جو تلیئر کے مشابہ ہوتاہے۔اور شہد کو بھی سلوٰی کہتے ہیںبائیبل میںاس کا ذکر گنتی باب ۱۱ آیت ۳۰ تا۳۲ میں اس طرح آتاہے۔’’ پھر موسیٰ اور وہ اسرائیلی بزرگ لشکر گاہ میں گئے اور خداوند کی طرف سے ایک آندھی چلی اور سمندر سے بٹیریں اڑالائی اور ان کو لشکر گاہ کے برابر اور اس کے گرد اگرد ایک دن کی راہ تک اس طرف اور ایک ہی دن کی راہ تک دوسری طرف زمین سے قریباً دو دو ہاتھ اوپر ڈال دیا اور لوگوں نے اٹھ کر اس سارے دن اور اس ساری رات اور اس کے دوسرے دن بھی بٹیریں جمع کیں۔‘‘ غرض سلوٰی میںپرندے شہد اور تمام ایسی غذائیں جو قلب کو تسکین دیتی ہیں شامل ہیں چونکہ اللہ تعالیٰ چاہتاتھاکہ بنی اسرائیل کو جنگل میں آزاد رکھ کر ان میں جرأت اور بہادری کے اخلاق پیدا کرے اس لئے اس نے اپنے فضل سے ان کے لئے ایسی غذائیں مہیا فرما دیں جو بغیر محنت کے ملتی تھیں اور جن میں گوشت بھی شامل تھا۔اور پھل اور سبزی ترکاری کی قسم کی غذائیں بھی شامل تھیں تاکہ ان کی غذ ئی ضرورت بھی پوری ہو اور ان کی صحت بھی اچھی رہے۔اس کے بعد فرمایاكُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِيْهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِيْ کہ جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے پاک چیزیں کھائو اور اس رزق کے بارے میں تم ظلم سے کام نہ لو یعنی چونکہ تمہیں جنگل میں رزق مل رہا ہے ایسا نہ ہو کہ زبردست سارارزق جمع کرلے اور غریب کومحروم کردے اگر ایسا کرو گے تو تم پر میرا غضب نازل ہوگا۔