تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 542
کامقابلہ نہیںکرسکتے تھے۔یہ امر یقینی معلوم ہوتاہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ دواڑہائی ہزار سپاہیوں سے زیادہ نہیںتھے اس اندازہ کے ماتحت من کی وہ مقدار جو بنی اسرائیل کے لئے ضروری ہوتی ہوگی بہت کم رہ جاتی ہے۔لیکن یہ سوال پھر بھی باقی رہ جاتاہے کہ کیا بنی اسرائیل من پر گذارہ کر سکتے تھے ؟ من جیساکہ بتایا جاچکا ہے ایک گوندہے جو ہے بھی مسہل۔اس غذاپر انسان چند دن سے زیادہ گزارا نہیں کر سکتاپھر بنی اسرائیل نے اڑتیس سال تک اس پر کیونکر گذارا کیا ؟ نئے یوروپین محققین بھی اس سوال کی معقولیت کے قائل ہوگئے ہیں اور اب ان کا یہ خیال ہے کہ من کی جو ماہیت بائیبل میں بتائی گئی ہے اس میں مبالغہ اور تداخل ہوگیا ہے۔من ان کے نزدیک لچن LICHEN کے دانوں کا نام ہے جو قحط کے دنوں میں لوگ کھانے لگتے ہیں۔لچن ایک بوٹی ہے جو سطح کے اوپر ہی اگ آتی ہے جڑکے لئے اسے زمین کی ضرور ت نہیںہوتی اس لئے چٹانوں کی سطح اور درختوں کی چھال پر بھی اگ آتی ہے اس کی بعض قسمیں پتھروں پر اگتی ہیں خصوصاً چونسے کے پتھروں پر اور جب اسے پتھر سے الگ کیا جائے تو جوار کے کچلے ہوئے دانے کے مشابہ ہوجاتی ہے جب یہ بوٹی پک جائے تو اس کے چھلکے جڑسے الگ ہو کر گول شکل اختیار کر لیتے ہیں اور ہلکا ہونے کی وجہ سے ہو ا ا نہیں اڑاکر دور دور لے جاتی ہے (انسائیکلوپیڈیا ببلیکاجلد۳زیر لفظ Manna)۔علماء نباتات کے نزدیک یہ بوٹی کھمب کی قسموں میں سے ہے(انسائیکلوپیڈیا ببلیکاجلد۳زیر لفظ Lichen)۔اگر نئے یوروپین محققین کی رائے تسلیم کرلی جائے تو پھر یہ سوال حل ہو جاتا ہے کہ بنی اسرائیل نے اس کھانے پر گذاراہ کس طرح کیا ؟ لیکن وہ سوال پھر پیدا ہو جاتا ہے کہ بائیبل کی بیان کردہ من کی ماہیت کے ساتھ اس بوٹی کی کوئی مناسبت نہیںنہ یہ بوٹی میٹھی ہوتی ہے نہ اس کا مزہ تازہ تیل کا سا ہوتاہے اور نہ یہ بوٹی دوپہر کو پگل جاتی ہے۔میرے نزدیک اس سوال کا جواب بائیبل اور اس کی متعلقہ کتب سے نہیںمل سکتا۔یوروپین محققین خواہ کتناہی زور لگائیں وہ اس سوال کاپوری طرح جواب نہیںدے سکتے کیونکہ وہ اس سرچشمہ سے دور ہیں جس سے حقیقی علم عطاہوتاہے۔پس اگر ہمیں صحیح جواب کی ضرورت ہے تو ہمیں چاہیے کہ قرآن اور حدیث سے مدد حاصل کریں۔قرآن کریم اور حدیث میں من کے متعلق مندرجہ ذیل حقائق بیان ہوئے ہیں۔(۱)اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْيَاهُمْ (البقرۃ:۲۴۴) کیاتجھے ان لوگوں کا حال معلوم نہیںجو اپنے گھروں سے موت کے ڈرسے اس حال میںنکلے تھے کہ وہ ہزاروں کی تعداد میںتھے اس پر اللہ نے انہیں کہا کہ مرجائو پھر اس نے انہیں زندہ کردیا۔