تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 543
(۲)وَ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى ١ؕ كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ(البقرۃ:۵۸)اور ہم نے تم پرمن اور سلویٰ اتارا تھا اور کہا تھا کہ جو کچھ ہم نے تمہیں دیاہے اس میںسے اعلیٰ اور پاکیزہ چیزوں کو کھائو۔(۳) بخاری میں سعید بن زیدؓ کی روایت ہے قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسلّم الْکَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ (بخاری کتاب التفسیر باب قولہ تعالیٰ وظللنا علیکم الغمام) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھمب بھی من کی اقسام میں سے ہے ترمذی میںابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔اِنَّ نَاسًا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالُوْا الْکَمْأَةُ جُدَرِیُّ الْاَرْضِ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْکَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ (ترمذی ابواب الطب باب ما جاء فی الکمأة)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ میں سے بعض لوگ اعراب کے توہمات کے مطابق باتیں کر رہے تھے کہ کھمب زمین کی چیچک ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو سن کر فرمایا کہ کھمب من کی اقسام میںسے ہے۔اوپر کی آیات و احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ (۱) بنی اسرائیل لاکھوںکی تعداد میںمصر سے نہیں نکلے بلکہ ہزاروں کی تعداد میں نکلے تھے۔(۲)جو چیزان کے کھانے کے لئے مہیا کی گئی تھی وہ غذاکے لحاظ سے اعلیٰ درجہ کی تھی اور ایسی نہ تھی جو غذائیت یامزے کے لحاظ سے تکلیف دہ ہو۔(۳) جو چیز بنی اسرائیل کو کھانے کے لئے ملی تھی وہ ایک چیز نہ تھی بلکہ کئی چیزیں تھیں اور ان کئی چیزوں میں سے ایک کھمب بھی تھی۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ من کا ذکر قرآن کریم میںتین جگہ پر آیا ہے۔ایک سورۃ بقرۃ میںایک سورۃ اعراف میں اور ایک سورۃ طٰہٰ میں اور تینوں جگہ اس کے ذکر کے بعد كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ کا فقرہ ہے جس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ اس خیال کی تردید کرنا مقصود ہے کہ وہ کھانا ایک ہی تھا اور طبیعت پر بوجھ ڈالنے والاتھا یا غذایت کے لحاظ سے ادنیٰ قسم کا تھا۔جب ہم لچن کی جس کا ذکر اوپر آچکا ہے تحقیق کرتے ہیںتو معلوم ہوتاہے کہ وہ بھی کھمب کی قسم کا پوداہے چنانچہ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا میں لکھا ہے۔’’لچن اور کھمب کے اقسام بالکل آپس میں ملتے جلتے ہیں۔اوریہ امر ان اقسام کی مشابہت سے جوایک دوسر ے کی طبعی سرحد پر واقع ہیں بالکل ظاہر ہو جاتا ہے ‘‘ (زیر لفظ Lichen)