تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 541
کہ اس علاقہ کا اکثر حصہ ایسا ہے کہ اس میں درخت پیدا ہی نہیںہوسکتے۔اس مشکل کا ایک حل تویہ ہے کہ ہم سمجھ لیں کہ بائیبل میں جو تعداد بنی اسرائیل کی لکھی ہے۔وہ مبالغہ آمیز ہے (خروج باب ۱۲ آیت ۱۳۷)۔گنتی باب ۱ سے معلوم ہوتاہے کہ بنی اسرائیل کے بیس سال سے زائد عمر کے لڑنے کے قابل مردوں کی تعداد بارھویں قبیلہ کو چھوڑکر جن کی گنتی نہیں کی گئی چھ لاکھ تین ہزار اور پانچ سو پچاس تھی۔اگر بارھویں قبیلہ کا اندازہ کرلیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ کل لڑنے کے قابل مرد ساڑھے چھ لاکھ تھے عورتوں بچوں اور جنگ کے ناقابل بوڑھوں کی تعداد کا اندازہ لگانے کے لئے ہم اس تعداد کو دس گنا زیادہ کر لیتے ہیںکیونکہ یہ ایک عام اندازہ ہے کہ چھ فیصدی سے لےکردس فیصدی تک ملک کی آبادی جنگی خدمت کے قابل ہوتی ہے۔ہم خیال کرلیتے ہیں کہ بنی اسرائیل سے سختی سے جنگی خدمت لی جاتی تھی اور کل تعداد بنی اسرائیل کی جنگی سپاہیوں سے صرف دس گناتھی یعنی ساٹھ لاکھ مگر عقل اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ بنی اسرائیل ساٹھ لاکھ تھے کیونکہ اتنے آدمی مصر سے اتنے قلیل عرصہ میںنکل ہی نہیںسکتے تھے پھر یردنؔ پار کی بستی جس میںآکر وہ بسے ہیں اس قدر آبادی کی حامل نہیںہوسکتی فلسطین کی آبادی کا اندازہ ۱۹۲۶ ء میں آٹھ لاکھ باون ہزار دوسو اڑسٹھ (۸۵۲۲۶۸)تھا (انسائکلو پیڈیا برٹینیکا چودھواں ایڈیشن زیر لفظ Palestine) اور اس ملک کا کل رقبہ ۹ ہزار مربع میل ہے اور پھر اس کا ایک بڑاحصہ ناقابل سکونت ہے۔صرف ریت کے میدان ہیں جنہیںآباد نہیں کیا جاسکتا بلکہ اب بھی جبکہ یہودیوں نے امریکہ کی مدد سے اسے آباد کیا ہے اس کی کل آبادی پندرہ لاکھ ہے۔پس اس ملک میںجو پہلے سے آباد تھا ساٹھ لاکھ آدمیوں کا آکر بس جانا بالکل خلاف عقل ہے۔ایک اور دلیل سے بھی یہ امر خلاف عقل معلوم ہوتاہے کہ بنی اسرائیل ساٹھ لاکھ تودرکنار چند لاکھ بھی ہوں اور وہ اس طرح کہ حضرت اسحاق ؑ کی پیدائش سے لےکر حضرت یعقوب ؑ کے مصر میں داخل ہونے تک قریباً دوسو سال کا عرصہ بائیبل کے بیان کے مطابق گذراہے اس عرصہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل کے افراد۱۲ تک پہنچتے ہیںعیسو کی اولاد کو بھی اگر اس قدر فرض کرلیا جائے تو دوسو سال میں چوبیس افراد تک ان کی نسل پہنچتی ہے اس کے بعد مصر سے نکلنے کے زمانہ تک دوسو سال گذرے ہیں پس عام اندازہ تو یہی ہو سکتاہے کہ حضرت یعقوب ؑ کے بارہ بیٹوں کی نسل اس دوسوسال میں چھ سات سو افراد تک پہنچ گئی ہوگی لیکن اگر ہم یہ بھی فرض کرلیں کہ وہ بہت شادیاں کرتے تھے اور اولاد زیادہ ہوتی تھی تب بھی پندرہ بیس ہزار سے زائد تو کسی صورت میںبھی ان کی تعداد نہیںہوسکتی اور اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے۔کہ بنی سرائیل اپنے سفر کے دوران میںمعمولی شہر کے آدمیوں سے بھی ڈرتے تھے اور ان