تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 528 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 528

یوں معلوم ہوتاتھا کہ کسی خفیہ طاقت نے ان کے پائوں تلے سے زمین نکال لی ہے۔چنانچہ وہ سجدہ میں گر گئے۔اور چونکہ اپنی شکست سے ان کو یقین ہوگیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کا رب ان کی تائید میں ہے اس لئے فوراًکہہ اٹھے کہ اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى۔ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لاتے ہیں۔قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِيْرُكُمُ (اس پر فرعون نے )کہا کیا تم میرے حکم سے پہلے ہی اس پر ایمان لاتے ہو (معلوم ہوگیا کہ ) وہ تمہارا سردار ہے الَّذِيْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيْدِيَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ جس نے تم کو یہ چالاکیاں سکھائی ہیں پس (اس فریب کی سزا میں)میں تمہارے ہاتھ اور پائوں( اپنی) اپنی خلاف ورزی مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِيْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١ٞ وَ لَتَعْلَمُنَّ کی وجہ سے کاٹ دونگا۔اور (میں تم کو )کھجور کے تنوں سے باندھ کر صلیب دے دوں گا۔اور تم کو معلوم ہوجائے گا اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى ۰۰۷۲ کہ ہم میںسے کون زیادہ سخت اور دیر پاعذاب دے سکتاہے۔حلّ لُغَات۔مِنْ خِلَا فٍ مِنْ خِلَافٍ کے معنے ہیں اِحْدَاھُمَا مِنْ جَانِبٍ وَالْاُخْرٰی یعنی ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کاپائوں (مفردات)اور مِنْ خِلَافٍ کے معنے مخالفت کی وجہ سے بھی ہوسکتے ہیں۔(مفردات) تفسیر۔فرعون کا دعویٰ تو یہ تھا کہ ہم ایسے لوگ بلائیں گے جوموسیٰ ؑ سے بڑے ہوںگے مگر جب ساحر شکست کھا کر موسیٰ کے قدموں میں گر گئے تو فرعون کو سخت غصہ آیا اور اس نے اپنی ذلت چھپانے کے لئے ان سے کہا کہ تم میرے کہنے سے پہلے ہی کیوں ایمان لے آئے۔اب میںتمہیںاس کی سزا دوںگا۔مِّنْ خِلَافٍ کے یہ معنے ہیںکہ خلاف ورزی کی وجہ سے یا یہ کہ ایک ہاتھ اور ایک پائوں مختلف اطراف سے کاٹوں گا۔مثلاً دایاں ہاتھ اور بایاں پائوں یہ اس لئے کیا جاتاتھا تاکہ انسان بالکل ناکارہ ہوجائے۔