تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 529
قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَ الَّذِيْ اس پر انہوں نے (یعنی فرعون کے پہلے ساتھیوں یاساحروں نے) کہاہم تجھ کو ان نشانات پر فوقیت نہیںدے سکتے فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِيْ هٰذِهِ جو (خدا کی طرف سے )ہمارے پاس آئے ہیںاور نہ اس( خدا)پر جس نے ہم کو پیدا کیا۔پس جو تیرازور لگتاہے الْحَيٰوةَ الدُّنْيَاؕ۰۰۷۳اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطٰيٰنَا وَ مَاۤ لگالے۔تو صرف اس دنیا کی زندگی کو ختم کرسکتاہے۔ہم( اب) اپنے رب پر ایمان لاچکے ہیں تاکہ وہ ہمارے گناہوںکو اَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى ۰۰۷۴اِنَّهٗ معاف کردے اور اس دھوکا بازی (کے مقابلہ) کو بھی معاف کردے جس کے لئے تو نے ہم کو مجبور کیا تھا۔اور اللہ مَنْ يَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا سب سے بہتر اور سب سے زیادہ قائم رہنے والا ہے حقیقت یہ ہے کہ جوکوئی شخص اپنے رب کے پاس مجرم کی وَ لَا يَحْيٰى ۰۰۷۵وَ مَنْ يَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ حیثیت سے حاضرہوتاہے اسے یقیناً جہنم ملتی ہے۔نہ وہ اس میںمرتاہے اور نہ زندہ رہتاہے۔اور جو شخص فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰى ۙ۰۰۷۶جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مومن ہونے کی حالت میں جبکہ وہ ساتھ ساتھ مناسب حال عمل بھی کرتاہوگا اس( یعنی خدا تعالیٰ )کے پاس آئےگا مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تو ایسا ہر شخص اعلیٰ درجے پائےگا۔(وہ درجے) ہمیشہ رہنے والے باغات (ہوںگے) جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی