تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 527
فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْسٰى۰۰۶۸قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اور موسیٰ اپنے نفس میں پوشیدہ طور پر ڈرا۔(تب) ہم نے وحی کی (اے موسیٰ) مت ڈر۔کیونکہ تو ہی غالب آئے گا۔اَنْتَ الْاَعْلٰى ۰۰۶۹وَ اَلْقِ مَا فِيْ يَمِيْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اور جو کچھ تیرے دائیں ہاتھ میں ہے اس کو زمین پر ڈال دے جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس سب کو وہ نگل جائے گا اِنَّمَا صَنَعُوْا كَيْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ اَتٰى ۰۰۷۰ (یعنی اس کا بھانڈا پھوڑ دیگا)انہوں نے جو کچھ کیا ہے وہ تو فریب کاروں کا ایک فریب ہے اور فریب کار جس طرف سے بھی آئے (خدا کے مقابلہ میں ) کامیاب نہیں ہو سکتا۔حلّ لُغَات۔اَوْجَسَ الرَّجُلُ اِیْجَاسًا کے معنے ہوتے ہیں اَحَسَّ وَاَضْمَرَ۔محسوس کیا اور چھپایا۔(اقرب) خِیْفَۃً کے معنے ہیں اَلْحَالَۃُالَّتِیْ یَکُوْنُ عَلَیْھَا الْاِنْسَانُ مِنَ الْخَوْفِ وہ حالت جوخوف کی وجہ سے انسان پرطاری ہوتی ہے (اقرب) تَلْقَفُ لَقِفَ سےہے اور لَقِفَ الشَیْءَکے معنے ہوتے ہیں تَنَاوَلَہ بِسُرْعَةٍ کسی چیز کو جلدی سے لے لیا (اقرب) پس تَلقَفُ کے معنے ہوںگے جلدی سے نگل لے گا۔تفسیر۔اس کامطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو الہام کے ذریعہ بتادیا کہ ان چیزوں کے اندر پیچ ہیں اور کچھ نہیں۔ان پر زور سے سونٹامار وہ پیچ ٹوٹ جائیں گے اوران کی حرکت بند ہوجائےگی اور اس طرح معنوی طورپر تیر ا سونٹاان کی رسیوں اور سانپوں کی نگل جائے گا۔یعنی ان کافریب لوگوں پر ظاہر کردےگا۔فَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى۰۰۷۱ پس( جب موسیٰ کے سونٹاڈالنے کے بعد فرعون کے لائے ہوئے )چالباز (اپنی کمزوری سمجھ گئے تو وہ اپنی ضمیر کی آواز سے) سجدہ میںگرائے گئے اور کہنے لگے ہم ہارون اور موسی ٰکے رب پر ایمان لاتے ہیں۔تفسیر۔اُلْقِيَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا بڑامعنے خیز فقرہ ہے۔جو بتاتاہے کہ جادو گروں کی شکست اتنی واضح تھی کہ