تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 500
قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوا کہ اپنے ہاتھ کو سینہ سے لگاؤاور آپ نے اس حکم کی تعمیل کی تو اس وقت وہ بالکل سفید اور نورانی تھا۔اور یہ سفیدی کسی بیماری کے نتیجہ میں نہیں تھی۔درحقیقت یہ ایک کشفی نظارہ تھا جو آپ نے دیکھا اور ایک عظیم الشان تعبیر کا حامل تھا ،لیکن بائیبل اس کے متعلق یہ کہتی ہے کہ۔’’اس نے اپنا ہاتھ اپنے سینہ پررکھ کر اسے ڈھانک لیا اور جب اس نے اسے نکال کردیکھا تواس کا ہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا۔‘‘ (خروج باب ۴آیت ۶) گویا نعوذ باللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کاہاتھ اس وقت کوڑھ کی وجہ سے سفید ہوگیا تھا۔حالانکہ کوڑھ کی وجہ سے سفید ہونا ایک عذاب ہے اور یہ مقام الٰہی تجلی اور اس کی نشان نمائی کا تھا۔ایسے موقعے پر کسی عذاب کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتاہے۔پس بائیبل کی یہ بات بالبداہت غلط ہے اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت اپنے آپ کو کوڑھی دیکھا تھا تو ان کا ایمان کیا بڑھا ہوگا۔وہ تو غمزدہ ہوئے ہوںگے کہ مجھے کوڑھ ہوگیا۔لیکن قرآن کہتاہے کہ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوْٓءٍ اس کاہاتھ سفید تو تھا مگر کوڑھ سے اسے کوئی مشابہت نہ تھی۔ہم نے بتایا ہے کہ یہ ایک کشفی نظارہ تھا اور اس کی تعبیر یہ تھی کہ اپنی قوم کے کارآمد لوگوں کو اپنے ساتھ ملائوان معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مِنْ غَيْرِ سُوْٓءٍ میں اس امر کی طرف اشارہ کیاگیا تھا کہ ان لوگوں میںجونیکی پائی جائےگی وہ ایسی کامل ہوگی کہ اس میںکسی قسم کی خرابی نہیںہوگی۔بعض لوگ ظاہر میںاچھے نظر آتے ہیںلیکن اندرونی طورپر نہایت خراب ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتایا کہ جب تم ان لوگوں کو اپنے قریب رکھوگے تویہ کامل طور پر روحانی وجود بن جائیں گے خرابیاں اس میںاسی وقت پیدا ہوںگی جب یہ تجھ سے دور ہوجائیں گے۔لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى ۚ۰۰۲۴ (اورہم یہ اس لئے کریںگے )تاکہ اس کے نتیجہ میںہم تجھ کو اپنے بڑے بڑے نشانات دکھائیں۔تفسیر۔اس میںبتایا گیاہے کہ ہم نے یہ نشان تجھے یہ یقین پیداکرنےکے لئے دکھائے ہیںکہ ہم تیرے ہاتھ پر اور بھی بڑے بڑےنشانات ظاہر کریں گے جن سے تیرامشن کامیاب ہوجائے گا۔چانچہ سورئہ اعراف میںاللہ تعالیٰ نے ان نشانات کا ذکرکیاہے جو حضرت موسیٰ کے ہاتھ پر دکھائے گئے۔وہ فرماتا ہے فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ