تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 499

ہوگیا۔مگر جب آپ واپس آئے تو آپ کے ذریعہ اس قوم کی پھر اصلاح ہوئی او راس نے اپنے فعل سے توبہ کی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میںان کی اس توبہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ فَتَابَ عَلَیْکُمْ (البقرۃ :۵۵) اس واقعہ کے بعد پھرحضرت موسیٰ علیہ السلام کی کوشش سے قوم درست ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے اس سے رحمت اورعفو کاسلوک کیا۔گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم سے علیحدگی نقصان دہ ثابت ہوئی لیکن جونہی آپ نے قوم کی طرف توجہ کی وہ پھردرست ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ہرقسم کی قربانیاں کرنے لگ گئی۔وَ اضْمُمْ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوْٓءٍ اور اپنے ہاتھ کوبغل میںدبالے۔جب تو اسے نکالے گاتو وہ سفید ہوگا۔مگر بغیر کسی بیماری کے اٰيَةً اُخْرٰىۙ۰۰۲۳ یہ ایک اور نشان ہوگا۔حلّ لُغَات۔اَلْیَدُ کے معنے ہیں الْکَفُّ۔ہاتھ نیز اس ایک معنے الجماعۃ کے بھی ہیں یعنی جماعت (اقرب)تعطیر الانام میں ہے کہ اَلْیَدُ تَدُلُّ عَلٰی الْوَلَدِ وَ الْاَخِ والْمَالِ وَالزَّوْجَةِ وَالشَّرِیْکِ وَالصَّدِیْقِ اگر کوئی شخص ہاتھ دیکھے تو اس سے مراد لڑکا بھائی مال۔بیوی۔شریک اور دوست ہوتاہے۔اَ لْجِنَاحُ الْجَنَاحُ کے معنے ہیںاَلْعَضْدُ بازوالْاِبْطُ بغل۔الْجَانِبُ پہلو نَفْسُ الشَّیْء کسی چیز کی ذات اور جب اَنَافِی جُنَاحِ فُلَانٍ کا فقرہ کوئی شخص کہے تو معنے ہوںگے اَیْ فِی ذَرَاہُ وَ ظِلِّہٖ میںاس کی پناہ اور سایہ تلے ہوں (اقرب) تفسیر۔خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اپنے ہاتھ کو اپنے پہلو کے ساتھ لگالو عربی زبان میںید کے معنے بھائی کے بھی ہوتے ہیںاور جب اس کے معنوں کو وسیع کیا جائے تو اس کے معنے قوم کے بھی ہوتے ہیں۔کیونکہ قوم کے افراد بھی اعیان و مدد گار کے طور پر کام آتے ہیںپس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وَ اضْمُمْ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ کہہ کر توجہ دلائی کہ تیری قوم میں سے جو کار آمد لوگ ہیںاور تیرے ساتھ ملنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو اپنے ساتھ چمٹالو۔وہ بڑے نورانی وجود بن جائیںگے۔اور بڑے بڑے روحانی کمالات ان سے ظاہر ہوںگے۔