تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 501
الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا۠ وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ(الاعراف:۱۳۴) یعنی جب فرعون اور اس کی قوم نے ہماری بات ماننے سے انکار کیاتو ہم نے ان پر کئی قسم کے عذاب بھیجے جن میں طوفان۔ٹڈیوں جوئوں۔مینڈکوں اور خون کا عذاب شامل تھا۔اور یہ ایسے نشانا ت تھے جن کو ہر ایک مشاہدہ کرسکتا تھا لیکن ان نشانوں کے باوجود فرعو ن اور اس کی قوم ہماری بات ماننے پر آمادہ نہ ہوئی۔اسی طرح فرماتا ہے وَ اَدْخِلْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِيْ تِسْعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِيْنَ(النمل:۱۳)یعنی ہم نے موسیٰ سے کہا کہ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میںڈالو اور پھر نکالو تو وہ بغیر کسی بیماری کے سفید نظر آئےگا۔یہ معجزہ ان نو معجزات میںسے ایک ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر فرعون اور اس کی قوم کے لئے دکھائے گے لیکن انہوں نے ان معجزات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔بائیبل میںبھی ان نشانات کا ذکر آتاہے۔چنانچہ پہلا نشان عصاکا ہے جس کا ذکر ان الفاظ میںکیاگیاہے :۔’’ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ یہ تیرے ہاتھ میںکیا ہے اس نے کہالاٹھی پھر اس نے کہاکہ اسے زمین پر ڈال دے۔اس نے اسے زمین پر ڈالا اور وہ سانپ بن گئی۔اور موسیٰ اس کے سامنے سے بھاگا۔تب خداوند نے موسیٰ سے کہاہاتھ بڑھاکر اس کی دم پکڑلے اس نے ہاتھ بڑھایا اوراسے پکڑلیا وہ اس کے ہاتھ میںلاٹھی بن گیا‘‘۔(خروج باب ۴آیت ۲تا۴) ( ۲)۔پھر دوسرا نشان ہاتھ کی سفیدی کا ہے اس کے متعلق لکھاہے۔’’ پھر خداوند نے اسے یہ بھی کہاکہ تواپنا ہاتھ اپنے سینہ پررکھ کر ڈھانک لے۔اس نے اپناہاتھ اپنے سینے پررکھ کر اسے ڈھانک لیا اورجب اس نے اسے نکال کردیکھاتو اس کاہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا ‘‘ (خروج باب ۴ آیت ۶،۷) (۳)۔تیسرا نشان دریا کے لہو ہوجانے کا ہے چنانچہ لکھاہے۔’’موسیٰ اور ہارون نے خداوند کے حکم کے مطابق کیا اور اس نے لاٹھی اٹھا کر اسے فرعون اور ا س کے خادموں کے سامنے دریاکے پانی پرمارا اور دریا کا پانی سب خون ہوگیا۔اور دریا کی مچھلیاں مرگئیں اور دریا سے تعفن اٹھنے لگا۔اور مصری دریاکا پانی نہ پی سکے۔‘‘ (خروج باب ۷آیت ۲۰،۲۱ ) ( ۴)۔چوتھا نشان مینڈکوں کا ہے اس کے متعلق لکھاہے۔’’خداوند نے موسیٰ کو فرمایا کہ ہارون سے کہہ اپنی لاٹھی لے کر پنا ہاتھ دریاؤں اورنہروں اور