تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 498
قَالَ اَلْقِهَا يٰمُوْسٰى۰۰۲۰ (اس پر )اس (یعنی خدتعالیٰ )نے فرمایا۔اے موسیٰ !اس عصاکو زمین پر پھینک دے۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اے موسیٰ :اس عصاکو زمین پر پھینک دے۔یعنی دیکھ کہ اگر تو اپنی قوم کی نگرانی چھوڑ دے تو اس کانتیجہ کیا نکلتاہے۔فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسْعٰى۰۰۲۱ سو اس نے اسے زمین پرپھینک دیاجس کے بعد اس نے اچانک دیکھا کہ وہ سانپ ہے جو دوڑ رہا ہے۔تفسیر۔فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسْعٰى انہوںنے اسے زمین پر پھینک دیا۔تو اچانک کیا دیکھا کہ وہ ایک سانپ ہے جودوڑ رہا ہے۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی زندگی میںدیکھ لیا کہ قوم کی ذراسی بھی نگرانی چھوڑنے پر و ہ سانپ کی طرح زہریلی بن گئی مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام چند دنوںکے لئے ہی پہاڑ پرگئے تو اسی عرصہ میں وہ و ہ قوم بت پرست ہوگئی۔اسی طر ح جب کبھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نگرانی میںرخنہ پڑا تو وہ قوم خراب ہوگئی۔قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙسَنُعِيْدُهَا سِيْرَتَهَا الْاُوْلٰى ۰۰۲۲ اس پر اس (یعنی اللہ تعالیٰ )نے فرمایا۔اس کو پکڑلے اور ڈرنہیںہم اس کو پھر اس کی پہلی حال کی طرف لوٹادیںگے۔حل لغات۔السیرۃ کے معنے ہیںاَلْھَیْئَۃُ ہیئت (اقرب) تفسیر۔سونٹے کو سانپ کی شکل میںدیکھ کر حضرت موسیٰ ؑ گھبرائے تو اللہ تعالیٰ نے کہا۔ڈرو نہیں۔یہ تمہاری قوم ہی ہے۔اس کواچھی طرح پکڑلو۔یہ پھر اصل حالت۔کی طرف لوٹ آئے گی۔اورایک مفید وجود بن جائے گی۔یعنی تیری قوم تیری زندگی میںمستقل طورپر خراب نہیں ہوگی بلکہ جب بھی تو اس کی طرف توجہ کرے گاوہ ٹھیک ہو جائے گی۔چنانچہ دیکھ لو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر حاضری میںبے شک آپ کی قوم کاایک حصہ شرک میں مبتلا