تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 497
خدا کی بات سن کر اس کے سب احکام اور آئین پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتاہوں احتیاط سے عمل کرے تو یہ سب لعنتیں تجھ پر نازل ہوں گی اور تجھ کو لگیں گی۔شہر میںبھی تو لعنتی ہوگااور کھیت میںبھی لعنتی ہوگا۔تیرا ٹوکرا اورتیری کٹھوتی دونوںلعنتی ٹھہریںگے۔تیری اولاد اور تیری زمین کی پیداوار اور تیرےگائے بیل کی بڑھتی اورتیری بھیڑبکر یوں کے بچے لعنتی ہوںگے۔تو اندر آتے لعنتی ٹھہرے گااور باہر جاتے بھی لعنتی ٹھہرے گا۔‘‘ (استثناء باب ۲۸ آیت ۱تا ۲۰) گویاوہی مضمون جوقرآن کریم میںبیان کیا گیاہے تورات میںبھی موجود ہے۔اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مثیل تھے اس لئے جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ کہا کہ اگر تو تورات کی تعلیم پرعمل کرےگا تو ’’تو اند رآتے وقت مبارک ہوگااورباہر جاتے وقت بھی مبارک ہوگا ‘‘ اسی طرح آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ دعاسکھائی گئی کہ وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِيْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا(بنی اسرائیل:۸۱) یعنی اے میرے رب میرادوبارہ مکہ میںداخل ہونابھی مبارک ہو اورمیرامکہ سے نکلنابھی مبارک ہو گویا اس آیت کی رو سے بھی آپ کامثیل موسیٰ ہونا ثابت ہے۔وَ مَا تِلْكَ بِيَمِيْنِكَ يٰمُوْسٰى۰۰۱۸قَالَ هِيَ عَصَايَ١ۚ اور(ہم نے اس وقت موسیٰ سے کہا کہ ) اے موسیٰ یہ تیرے دائیںہاتھ میںکیاہے ؟ (اس نے)کہا۔یہ میرا سونٹا اَتَوَكَّؤُا عَلَيْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِيْ وَ لِيَ فِيْهَا ہے۔میںاس پر سہارا لیتاہوں اور اس کے ذریعہ سے اپنی بکریوں پر (درختوں کے)پتے جھاڑتاہوں اور مَاٰرِبُ اُخْرٰى۰۰۱۹ اس کے سوابھی اس میںمیرے لئے اور کئی فائدے پوشیدہ ہیں۔حلّ لُغَات۔أتَوَکَّؤُا۔أَتَوَکَّؤُا تَوَکَّأَ سےمتکلم کاصیغہ ہے اور تَوَکّأَ عَلَی الْعَصَاکے معنے ہوتے ہیںتَحَمَّلَ وَ اَعْتَمَدَ عَلَیْھَا سونٹے پر سہارالیا (اقرب) پس أَتَوَکَّؤُا کے معنے ہو ںگے میںسہارا لیتاہوں۔