تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 496
والے ہیںوہ انعام حاصل کرلیں اور جو منکر ہیںوہ سزاپالیں بماتسعی میں باء کے معنے مطابق کے ہیںاور ما مصدر یہ ہے۔مطلب یہ ہے کہ تاہر نفس اپنے عمل کے مطابق جزاپالے۔فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا يُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ پس جو (شخص ) قیامت پرایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلتاہے تجھے قیامت پر ایمان لانے فَتَرْدٰى۰۰۱۷ سے روک نہ دے جس کے نتیجہ میںتو ہلاک ہوجائے۔حلّ لُغَات۔تردیٰ رَدِیَ یَرْدٰیسے مخاطب کا صیغہ ہے اور رَدِیَ کے معنے ہوتے ہیں ہَلَکَ و ہ ہلاک ہوگیا (اقرب ) پس فَتَرْدیٰ کے معنے ہوںگے توہلاک ہوجائے۔تفسیر۔فرماتا ہے اے موسیٰ ؑ تجھے کسی ایسے شخص کی مخالفت خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ فرائض سے نہ روکے جو اس ساعت پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خوہشات کے پیچھے پڑاہو ا ہے ور نہ تو بھی مصیبت میںمبتلا ہو جائےگا۔اس آیت میںبھی سورۃ کے اس پہلے حصہ کی تصدیق کی گئی ہے کہ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤى یعنی قرآن اس لئے نازل نہیںہوا کہ تجھے تباہی میںڈالے اورکہاگیاہے کہ اے موسیٰ جو تیر ی تعلیم پرعمل کرےگا وہ تباہ نہیںہوگا بلکہ جو اس کو چھوڑےگا وہ تباہ ہوگا۔چنانچہ بائیبل کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو یہی پیغام دیا کہ ’’ اگر تو خداوند اپنے خدا کی بات کو جانفشانی سے مان کر اس کے ان سب حکموںپر جو آج کے دن میںتجھ کو دیتاہوں احتیاط سے عمل کرے تو خداوند تیراخدادنیاکی سب قوموں سے زیادہ تجھ کو سرفراز کرےگا اور اگر تو خداونداپنے خدا کی بات سنے تو یہ سب برکتیں تجھ پر نازل ہوںگی اور تجھ کو ملیںگی شہر میںبھی تو مبارک ہوگا اورکھیت میںبھی مبارک ہوگا۔تیری اولاد اور تیری زمین کی پیداوار اور تیرے چوپایوں کے بچے یعنی گائے بیل کی بڑھتی اورتیری بھیڑ بکر یوں کے بچے مبارک ہوںگے۔تیرا ٹوکرا اور تیری کٹھوتی (یعنی اٹاگوندھنے کابرتن ) دونوںمبارک ہوںگے اور تو اندر آتے وقت مبارک ہوگا اور باہر جاتے وقت بھی مبارک ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اگر تو ایسا نہ کرے کہ خدا وند اپنے