تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 495
اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ اَكَادُ اُخْفِيْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا قیامت یقیناً آنے والی ہے۔قریب ہے کہ میںاسے ظاہر کردوں۔تاکہ نفس کے اپنے اعمال کے مطابق تَسْعٰى۰۰۱۶ جزادی جائے حلّ لُغَات۔أُخْفِیْ۔اَخْفیٰ سے متکلم کاصیغہ ہے اور اَخْفَی خَفَی سے باب افعال ہے جواپنے اندر متضاد معنے رکھتاہے یعنی اس کے معنے ظاہر کرنے کے بھی ہیں او رچھپانے کے بھی ہیں چنانچہ خَفَاہُ کے معنے ہوتے ہیں اَظْہَرہُ اس کوظاہر کردیا اور اس کے ایک معنے سَتَرَہُ کے بھی ہوتے ہیںیعنی چھپادیا (اقرب) اسی طرح اَخْفَی الشَّیْءَ کے معنے کرتے ہوئے لکھاہے اَ زَالَ خَفَاءَ ہُ اس کے پردے کودور کردیا(اقرب) یعنی اس کو ظاہر کردیا۔تفسیر۔اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ اَكَادُ اُخْفِيْهَا میں اُخْفِيْهَا کے دونوں معنے ہوسکتے ہیں یہ بھی کہ عذاب کی گھڑی آنےوالی ہے قریب ہے کہ میںاسے چھپا دوں اور یہ بھی کہ عذاب کی گھڑی آنےوالی ہے قریب ہے کہ میںاسے ظاہر کردوں۔چنانچہ حل لغات میںبتایا جاچکاہے کہ أَخْفَی الشَّیءَ کے ایک معنے یہ بھی ہوتے ہی کہ اَ زَالَ خَفَائَہُ اس کے پردہ کو دور کردیا یعنی اسے ظاہرکردیاعربی زبان کا قاعدہ ہے کہ جب کسی مجرد فعل کوباب افعال میں لے آئیںتو اس میںسلب کے معنے پیداہوجاتے ہیںجیسے کہتے ہیںشَکَانِیْ فَاَشْکَیْتُہکہ اس نے شکایت کی تو میںنے اس کی شکایت کا ازالہ کردیا پس اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ اَكَادُ اُخْفِيْهَا کے دونوں معنے ہوسکتے ہیںیہ بھی کہ اسے چھپائے رکھوں اور یہ بھی کہ اسے ظاہر کردوں اگر اس کے معنے چھپائے رکھوں کے کئے جائیں تو اس آیت کایہ مفہوم ہوگاکہ یہ مخالف اتنے گندے لوگ ہیںکہ میںچاہتاہوں کہ ان سے اس عذاب کی گھڑی کو پوشیدہ رکھوں تاکہ عذاب ان پر اچانک آجائے اور انہیںاس کے ازالہ کا کوئی موقعہ نہ مل سکے اور اگر اس کے معنے ظاہر کرنے کے ہوں تو مراد ہوگی کہ وہ گھڑی جو تیری ترقی اور تیرے دشمنوںکی تباہی کے لئے مقدر ہے وہ آرہی ہے اور قریب ہے کہ میںاس کوظاہر کردوں یعنی عنقریب ایسے حالات پیدا ہونے والے ہیںکہ تیرے دشمنوں کی تباہی کے آثار ظاہر ہونے لگ جائیںگے اور میری ان آثار کو ظاہر کرنے سے غرض یہ ہوگی کہ ہرشخص اپنے اعمال کے مطابق جزاپالے جوماننے