تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 494
چن لیا ہے اور خاص کرلیاہے۔تفسیر۔اس آیت سے بھی ظاہر ہے کہ ٓاگ میں سے کوئی چیز نہیں بولی بلکہ خدا کی طرف سے وحی ہوئی تھی کیونکہ یہاں وضاحتاً اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ اے موسیٰ !میں نے تجھے چن لیا ہے پس جوتیری طرف وحی کی جاتی ہے تواس کو سن اور اس پر عمل کر۔اِنَّنِيْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِيْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ میں یقینا اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں۔پس تو میری ہی عبادت کر۔اور میرے لِذِكْرِيْ۰۰۱۵ ذکر کے لئے نماز قائم کر حلّ لُغَات۔اقم۔اَقِمْ اَقَامَ سے امر کا صیغہ ہے اور اَقَامَ الشَّیْءَکے معنے ہوتے ہیں اَدَامَہُ کسی چیز کوہمیشہ کے لئے رکھا اور اَقَام الصَّلٰوۃَ کے معنے ہیںاَدَامَ فِعْلَھَا ہمیشہ نماز پڑھتارہا۔اور اَقَامَ لِلصَّلٰوۃِ کے معنے ہوتے ہیں نَادَی لَھَا نماز کے لئے دوسرںکوبلایا۔(اقرب) تفسیر۔اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ کے یہ معنے ہیںکہ خود بھی نماز پڑھ اور دوسروں سے بھی پڑھوا۔گویا اقامت صلوٰۃ کے معنے باجماعت نماز اداکرنے کے ہیں۔اور باجماعت نماز سوائے اسلام کے اور کسی مذہب میںادانہیںکی جاتی ہاں رسمی طورپر لوگ عبادت کے لئے اکٹھے ہوجاتے ہیں جیسے عیسائی گرجا میںاور یہودی صومعہ میںاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ میں لِذِكْرِيْ کے دو معنے ہوسکتے ہیںایک تو یہ کہ چونکہ میں نے تجھے یاد کیا ہے اس لئے تو میرے شکر کے طورپر نماز پڑھ۔اور دوسرے یہ کہ میرے ذکر کے لئے نماز پڑھ۔یعنی تیری نماز دکھاوے کے لئے نہ ہو بلکہ صرف میرے ذکر کے لئے ہو۔