تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 476
اخلاق فاضلہ جو دنیا سے مٹ چکے ہیںان کوازسرنو قائم کررہے ہیںاور ہمیشہ مہمان نوازی کرتے ہیںاور اگر کوئی شخص بغیر کسی شرارت کے مصیبت میں پھنس جائے توآپ اس کی اعانت فرماتے ہیں۔یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایسے عظیم الشان اوصاف رکھنے والے انسان کو خداچھوڑ دے۔(بخاری باب بدءالوحی) دنیا میں انسان کے اخلاق اور اس کے کردار کی سب سے بڑی گواہ اس کی بیوی ہوتی ہے۔جو رات دن اس کے حالات کو دیکھتی رہتی ہے۔پس یہ گوہی سب سے زیادہ معتبر گواہی ہے جس سے ثابت ہوتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم واقعہ میںطٰہٰ تھے یعنی ایک کامل مرد میں جو فضائل اور اوصاف پائے جانے چاہئیں وہ سب کے سب آپ میں اپنی پوری شان کےساتھ پائے جاتے تھے۔چنانچہ جب ہم رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی پر تفصیلی طورپرغور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتاہے کہ آپ کی پیدائش سے قبل ہی اللہ تعالیٰ نے آپ میں وہ تمام اوصاف ودیعت فرمادئیے تھے جو ایک کامل القویٰ مرد میں پائے جانے چاہئیں تاکہ آپ ہرقسم کے لوگوں کے لئے نمونہ بن سکیں ہمیںاس سے انکار نہیںکہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی ایک اعلیٰ درجہ کے نبی تھے لیکن وہ ہر زمانہ اور ہرقسم کے لوگوں کے لئے نمونہ نہیںتھے۔مثلاًانجیل سے آپ کی شادی ثابت نہیں۔اس لئے شادی شدہ لوگو ںکی متاہلانہ زندگی میں آپ کو ئی راہنمائی نہیںکرسکتے۔اسی طرح آپ بادشاہ نہیںہوئے کہ ٓاج بادشاہ یہ کہہ سکیں کہ مسیح ؑ ہمارے لئے بھی نمونہ ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے حالات میں سے گذرے جن کے نتیجہ میں آپ دنیا کے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لئے ایک بے مثال نمونہ بن گئے اور پھرزندگی کے ہر مرحلہ میں آپ نے اپنے اعلیٰ درجہ کے اخلاق اور بلند کردار کا اظہا ر کرکے ثابت کردیا کہ آپ کے اندر کامل روحانی قوتیں ودیعت کی گئی ہیں۔مثلاً ًرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد آپ کی پیدائش سے قبل ہی فوت ہوچکے تھے اور بہت چھوٹی عمر میں آپ کی والدہ کا بھی انتقال ہوگیا تھا۔مگر داداکی زیر نگرانی جو باپ کاقائم مقام تھاآپ نے بتادیا کہ اخلاق کیسے ہونے چاہئیں۔یتیم کی حالت دو قسم کی ہوتی ہے۔یا توبچہ بہت ہی سرچڑھ جاتاہے یا بہت ہی پژمردہ رہنے لگتاہے اگر اس کے نگران ایسے لوگ ہوں جو اس کی دلجوئی کے خیال سے ہر وقت پیارہی کرتے رہیں تو اس کی اخلاقی حالت بہت ہی گرجاتی ہے اور اگر وہ ایسے لوگوں کی تربیت میں ہو جوسمجھیں کہ ہمارا بچہ تو یہ ہے ہی نہیںتو یتیم کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے مگر بچپن میںہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ ایسا اعلیٰ تھا کہ آپ کے ہمجولی بیان کرتے ہیں کہ گھر میں کسی چیز کے لئے آپ چھیناجھپٹی نہیںکرتے تھے بلکہ وقار کے ساتھ اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے تھے حتیٰ کہ چچی خود بلاکر آپ کاحصہ دیتیں پھر آپ وقار کےساتھ ہی اس کا استعمال کرتے۔آپ کی رضاعی والدہ کا بیان ہے کہ آپ میں ایسی سعادت