تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 475

ہوتے کہ میںتجھے و ہ علم اور ہدایت دے رہاہوں جو میںنے ابراہیم کو دی تھی اور اب انسان اس کو بھول چکاہے یا میںتجھے وہ علوم عطاکررہا ہو ںجو میںنے نوح کو دیئے تھے اوراب انسان ان کو بھول چکا ہے۔یامیں تجھے وہ علوم عطاکررہا ہوں جو میں نے موسیٰ کو دئیے تھے اوراب انسان ان کو بھول چکا ہے۔یامیں تجھے وہ علوم عطاکررہا ہوں جو میں نے عیسیٰ کو دئیے تھے اور اب انسان ان کوبھول چکا ہے۔یامیں تجھے وہ علوم عطاکررہا ہوں جو میں نے اور انبیاء کوعطاکئے تھے اوراب انسان ان کوبھول چکا ہے بلکہ اس نے یہ فرمایا کہ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ میں تجھے وہ علوم عطا کرنے والا ہوں جو نہ آدم ؑ کو ملے نہ ابراہیمؑ کو ملے نہ موسیٰ کو ملے نہ عیسیٰ کو ملے اور نہ کسی اور نبی کو ملے۔پس درحقیقت ان پہلی آیتوں میں ہی اللہ تعالیٰ نے بتادیا تھاکہ آپ خاتم النبیین کے مقام پر فائز ہونے والے ہیںاور آپ کواللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی تعلیم ملنے والی ہے جو پہلے کسی نبی کو حاصل نہیں تھی۔گویا طٰہٰ میں جوحقیقت بیان کی گئی ہے اس کی طرف اس ابتدائی الہام میںبھی اشار ہ کردیا گیا اور بتادیا گیا کہ آپ روحانی نقطہ نگاہ سے اپنے اندر کامل قوتیں رکھنے والے ہیںاور اسی وجہ سے آپ کو ایک کامل اور غیرمتبدل تعلیم عطا کی جانے والی ہے۔اب اس کے بعد ایک اور مرحلہ شروع ہوا جس نے ثابت کردیا کہ آپ حقیقۃً طٰہٰ تھے اور ایک کامل انسان میں جس قدر اوصاف پائے جانے چاہئیں وہ سب کے سب آپ میں پائے جاتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اقرء یعنی جا اور دنیاکو میرا پیغام پہنچا دے تو یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہاکہ جا اور فرعون تک میرا پیغام پہنچا دے تو حضر ت مو سیٰ علیہ السلام نے گھبرا کر کہا کہ وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَھْلِیْ اے خدا یہ ایسا بوجھ نہیںجس کو میں اکیلابرداشت کرسکوں اس لئے میری مدد کے لئے میرے ہی اہل میں سے ایک آدمی میرے ساتھ مقرر کردیں۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کہا۔بلکہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ سے کہا کہ جا اور دنیا تک میرا پیغام پہنچا دے توا ٓپ نے اکیلے ہی اس بوجھ کو برداشت کرلیا اور خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لئے اپنے گھر کی طرف چل پڑے آپ نے گھر پہنچ کر حضرت خد یجہ ؓ کو یہ تمام واقعہ سنایا اور پھر کہا لَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ یعنی خدا تعالیٰ نے ایک بہت بڑا کام میرے سپرد کیا ہے۔میں ڈرتاہوں کہ میں اس عظیم الشان کام کو سرانجام بھی دے سکوں گا یانہیں۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاجو آپ کی پاکیزہ زندگی کی شاہد تھیں انہوںنے یہ سنتے ہی کہا کلَّا وَاللہِ مَا یُخْزِیْکَ اللہُ اَبَدًا نہیںنہیںایسا ہرگز نہیںہوسکتا۔خدا کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی ضائع نہیںکرے گا۔إِنَّكَ لَتِصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِيْ الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلٰى نَوَائِبِ الْحَقِّ کیونکہ آپ ہمیشہ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیںاور لوگوں کے بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ